محکمہ اقلیتی بہبود سے تعمیری سرگرمیوں کا آغاز، حج رباط کی تعمیر کے نام پر اراضی پر بلڈوزرس
محمد مبشرالد ین خرم
حیدرآباد۔26اپریل۔ تلنگانہ وقف بورڈ کے تحت موجود جائیدادوں پر محکمہ اقلیتی بہبود کی ہی نیت اگر خراب ہوجائے تو ان موقوفہ جائیدادوں کا تحفظ کون کرے گا! ریاستی حکومت کی نگرانی میں اگر موقوفہ جائیدادوں کے حصول کے لئے اقدامات کئے جانے لگ جائیں تو وقف بورڈ کی جائیدادوں کو نقصان پہنچنے سے محفوظ کون رکھے گا!تلنگانہ ہائی کورٹ نے درگاہ حضرت سید بابا شرف الدین ؒ کی اراضی پر کسی بھی طرح کی تعمیرات پر حکم التواء جاری کیا تھا لیکن ریاستی حکومت کے محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے ہی حکم التواء کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ تلنگانہ وقف بورڈ کی جانب سے ٹمریز کے حوالہ کی گئی اراضیات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے تلنگانہ ہائی کورٹ میں داخل کی گئی درخواست کی سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے وقف بورڈ اور ٹمریز کے درمیان اراضیات کی منتقلی کے عمل کو روکتے ہوئے مذکورہ اراضیات پر کسی بھی طرح کی سرگرمیاں انجام دینے پر روک لگادی ہے لیکن اس کے باوجود محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے درگاہ حضرت بابا شرف الدین ؒ کے تحت موجود موقوفہ اراضی پر محکمہ اقلیتی بہبود کی نگرانی میں تعمیری سرگرمیوں کے آغاز کے لئے بلڈوزر اور جے سی بی کے ذریعہ مذکورہ اراضی کو مسطح کرنے کے اقدامات کئے جانے لگے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ٹمریز کے اسکولوں کے قیام کے لئے حوالہ کی گئی اس اراضی کو تلنگانہ ہائی کورٹ کے حکم التواء کے بعد دیگر مقاصد کے استعمال کے لئے منظوری دیتے ہوئے محکمہ اقلیتی بہبود حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہے اور کہا جارہاہے کہ اس انتہائی قیمتی موقوفہ اراضی کو ’حج رباط‘ کے نام پر حاصل کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں ۔ ابتداء میں جب موقوفہ اراضیات کو انتہائی کم کرایہ پر ’ٹمریز‘ کے حوالہ کرنے کی مخالفت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ جس طرح سے دیگر طبقات کے رہائشی و اقامتی اسکولوں کے لئے سرکاری اراضی حوالہ کی جاتی ہے اسی طرح ’ٹمریز ‘ کے لئے بھی سرکاری اراضیات کی تخصیص عمل میں لائی جائے اور حکومت کی جانب سے اس مطالبہ پر عمل آوری کے بجائے وقف بورڈ کے تحت موجود اراضیات کو ’ٹمریز‘ کے حوالہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن جب ٹمریز کو اس قیمتی اراضی کی حوالگی میں عدالت سے حکم التواء جاری کیاگیا تو ریاستی حکومت کے محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے مذکورہ اراضی کو اب ’حج رباط‘ کی تعمیر کے لئے حاصل کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے کیونکہ یہ معاملہ مسلمانوں کے جذبات سے مربوط ہے۔ حکومت کو ’حج رباط‘ کی تعمیر کرنی ہے تو حکومت کو چاہئے کہ وہ اس کے لئے حج کمیٹی کو سرکاری اراضی حوالہ کرتے ہوئے اس پر ’حج رباط ‘ کی تعمیر کو یقینی بنانے کے اقدامات کرے اور مستقبل میں کسی بھی طرح کے تنازعہ سے محفوظ رہ سکے۔واضح رہے کہ تلنگانہ وقف بورڈ کا گذشتہ ایک برس کے دوران کوئی اجلاس منعقد نہیں ہو پایا ہے اور نہ ہی کسی طرح کی قرار داد منظور کی گئی ہے تو آخر کس نے اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ درگاہ حضرت سید بابا شرف الدین سہروردی ؒ کے تحت موجود اس اراضی پر ’حج رباط‘ کی تعمیر عمل میں لائی جائے اور اس پراجکٹ کو کس نے منظوری دی ہے اس بات کی وضاحت کرنے والابھی کوئی نہیں ہے۔