دعوت افطار اور ملبوسات کے ذریعہ مسلمانوں کو کب تک دھوکہ دیا جائے گا

   

مسلم جماعتوں اور تنظیموں سے چیف منسٹر کی دعوت افطار کے بائیکاٹ کی اپیل،12 فیصد تحفظات کی عدم تکمیل اور مساجد کی شہادت پر مسلمانوں میں برہمی: شیخ عبداللہ سہیل
حیدرآباد۔/12 اپریل، ( سیاست نیوز) مسلمانوں سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل میں ناکامی اور ریاست میں اقلیتی اسکیمات کے ٹھپ ہوجانے پر مسلمانوں میں بے چینی بڑھتی جارہی ہے۔ عام مسلمانوں کا احساس ہے کہ حکومت کو مسلم مسائل کے بارے میں موثر طور پر نمائندگی کرنے والوں کی کمی ہے اور مسلمانوں کے جذبات کی حقیقی معنوں میں چیف منسٹر کے پاس ترجمانی کرنے والا کوئی قائد موجود نہیں۔ ایسے میں مسلمانوں کی ناراضگی سے چیف منسٹر کو واقف کرانے کا واحد راستہ دعوت افطار کا بائیکاٹ رہے گا۔ مسلمانوں میں اس مسئلہ پر متفقہ رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا جارہا ہے کہ چیف منسٹر کو 12 فیصد مسلم تحفظات اور دیگر وعدوں کی تکمیل کیلئے دباؤ بنانے علامتی احتجاج کے طور پر چیف منسٹر کی دعوت افطار کا بائیکاٹ کیا جائے۔ اسی دوران پردیش کانگریس کمیٹی میناریٹیز ڈپارٹمنٹ کے صدرنشین شیخ عبداللہ سہیل نے مسلم جماعتوں، تنظیموں اور علماء و مشائخ سے اپیل کی کہ وہ چیف منسٹر کی دعوت افطار کا بائیکاٹ کرتے ہوئے مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی کریں۔ انہوں نے کہا کہ 12 فیصد مسلم تحفظات کی اندرون 4 ماہ فراہمی کا وعدہ کئے ہوئے سات برس گذر گئے لیکن چیف منسٹر کو اس وعدہ کے بارے میں یاددہانی کرانے والا کوئی نہیں ہے۔ شیخ عبداللہ سہیل نے کہا کہ سکریٹریٹ کی دونوں مساجد کے علاوہ تلنگانہ میں 6 مساجد شہید کردی گئیں لیکن مسلم قیادتوں نے مجرمانہ خاموشی اختیار کرلی ہے۔ سکریٹریٹ کی مساجد کے تعمیری کاموں کا رسمی سنگ بنیاد رکھتے ہوئے مسلمانوں کو خوش کرنے کی کوشش کی گئی لیکن تعمیری کاموں کا آج تک آغاز نہیں ہوا۔ شیخ عبداللہ سہیل نے کہا کہ رمضان المبارک کے موقع پر دعوت افطار میں کھجور اور بریانی سے مسلمانوں کی تواضع کرنے سے حقیقی معنوں میں ترقی نہیں ہوگی۔ ٹی آر ایس حکومت دعوت افطار اور ملبوسات کے ذریعہ کب تک دھوکہ دیتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ دعوت افطار اور ملبوسات کی تقسیم سے بہتر رہے گا کہ حکومت اقلیتوں کی تعلیمی اور معاشی ترقی سے متعلق اسکیمات کیلئے فنڈز جاری کرے۔ اسکالر شپ، فیس ری ایمبرسمنٹ اور اوورسیز اسکالر شپ جیسی اسکیمات پر عمل آوری روکتے ہوئے مسلمانوں کو تعلیم سے محروم کرنے کی سازش ہے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن ایک مجہول اور برائے نام ادارہ میں تبدیل ہوچکا ہے۔ شیخ عبداللہ سہیل نے کہا کہ مسلمانوں کی ترقی اور فلاح و بہبود سے دلچسپی رکھنے والی ہر مسلم جماعت و تنظیم کو دعوت افطار کا بائیکاٹ کرتے ہوئے اپنی دینی اور ملی حمیت کا ثبوت دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نہ صرف حیدرآباد میں چیف منسٹر کی دعوت افطار بلکہ اضلاع میں بھی ٹی آر ایس پارٹی اور قائدین کی افطار پارٹیوں کا بائیکاٹ کیا جائے۔ ر