سدی عنبر بازار، بیگم بازار، گوشہ محل، افضل گنج اور دیگر علاقوں میں مہم چلانے جی ایچ ایم سی کی تیاری
حیدرآباد۔11۔ڈسمبر(سیاست نیوز) مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے تلنگانہ ہائی کورٹ کی جانب سے جاری کئے جانے والے احکامات کے بعد دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے فٹ پاتھس اور سڑکوں پر کئے جانے والے ناجائز قبضہ جات کو برخواست کروانے کی خصوصی مہم شروع کی ہے اور اس سلسلہ میں اہم سڑکوں کے علاوہ اہم سڑکوںکو جوڑنے والی سڑکوں پر بھی کئے گئے قبضہ جات کو برخواست کیا جانے لگا ہے اور کہا جا رہاہے کہ دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد کے مختلف علاقوں میں جہاں فٹ پاتھس پر ساز و سامان رکھنے کے علاوہ دیگر طریقوں سے قبضہ کیا گیا ہے ان قبضہ جات کو برخواست کرنے کے لئے بلدی عہدیداروں نے محکمہ پولیس کی مدد حاصل کرتے ہوئے کاروائیوں کا آغاز کردیا ہے۔بتایاجاتا ہے کہ چیف جسٹس تلنگانہ ہائی کورٹ جسٹس پال بھویان نے کمشنر جی ایچ ایم سی کو سڑکوں پر کئے گئے ناجائز قبضہ جات کی برخواستگی کے علاوہ شہریو ںمیں شعور اجاگر کرنے اور فٹ پاتھ پر قبضہ یا سڑک پر کئے گئے ناجائز قبضہ پر عائد کئے جانے والے جرمانوں اور سزاء کے متعلق ہورڈنگس آویزاں کرتے ہوئے اور پمفلٹس کی تقسیم کے ذریعہ واقف کروائیں۔ بلدی عہدیداروں نے شہر کی اہم مصروف ترین سڑکوں پر ٹریفک کی آمدورفت کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات کا آغاز کردیا ہے اور اس بات کی ہدایت دی گئی ہے کہ جن سڑکوں یا فٹ پاتھس پر قبضہ جات ہیں ان مقامات پر قابضین کو مطلع کیا جائے کہ جی ایچ ایم سی کی جانب سے ان قبضہ جات کو برخواست کرنے کے لئے خصوصی مہم چلائی جا رہی ہے اور ان قبضہ جات کی برخواستگی کے لئے بلدیہ کی جانب سے نوٹس جاری نہیں کی جائے گی کیونکہ ناجائز قبضہ کو برخواست کرنے کے لئے نوٹس جاری کرنا کوئی لازمی نہیں ہے ۔کمشنر بلدیہ مسٹر لوکیشن کمار نے اپنے ماتحت عہدیداروں کو تاکید کی ہے کہ وہ قبضوں کی برخواستگی کے لئے متعلقہ پولیس عہدیداروں کی مدد حاصل کریں اور ان قبضہ جات کی برخواستگی میں رکاوٹ پیدا کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کرتے ہوئے جرمانے عائد کرنے کے علاوہ فوجداری مقدمات کے اندراج سے بھی گریز نہ کریں۔ بتایاجاتا ہے کہ آئندہ دویوم کے دوران جی ایچ ایم سی عملہ سدی عنبر بازار‘ بیگم بازار‘ گوشہ محل کے علاوہ افضل گنج و دیگر علاقوں میں قبضہ جات کی برخواستگی کے سلسلہ میں بڑے پیمانے پر کاروائی کرنے کی منصوبہ بندی تیار کرچکا ہے۔م