فروخت و منتقلی میں مشکلات ، ریونیو عہدیداروں کی من مانی کی شکایات
حیدرآباد۔20جولائی (سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ نے ریاست میں موجود اراضیات کو باقاعدہ بنانے اور ان کے ڈیجیٹل ریکارڈس کی تیاری کے سلسلہ میں اقدامات کے تحت دھرانی پورٹل کی تیاری کے ذریعہ ڈیجیٹل پٹہ پاس بک کی اجرائی کے اقدامات کئے لیکن ڈیجیٹل پاس بک اور دھرانی پورٹل ریاست میں جائیداد مالکین کے لئے زحمت کا سبب بننے لگا ہے اور کہا جار ہاہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے کئے گئے اقدامات سے جائیداد مالکین جو اپنی جائیداد رکھنے کے باوجود ان کی فروخت یا انہیں منتقل کرنے کے موقف میں نہیں ہیں کیونکہ محکمہ مال کے عہدیداروں کی جانب سے ان کی جائیدادوں کو ناقابل منتقلی کے زمرہ میں درج کرتے ہوئے ان کے لئے مشکلات کھڑی کی جانے لگی ہیں اور کہا جار ہاہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کے بعد اب محکمہ مال کے عہدیداروں کی من مانی جاری ہے اور وہ اپنی مرضی کے مطابق کسی بھی ایک درخواست کی بنیاد پر جائیداد کو ناقابل فروخت و منتقلی کے طور پر درج کر رہے ہیں جس کے نتیجہ میں جائیداد مالکین کو مختلف دفاتر کے چکر کاٹنے پڑ رہے ہیں۔ریاستی حکومت کی جانب سے کھلی اراضیات کو محفوظ بنانے کے لئے کی گئی ان کوششوں کے سلسلہ میں اب متعدد شکایات موصول ہونے لگی ہیں اور تحصیلداروں کا کہناہے کہ ان شکایات کو حل کرنا ان کے اختیار میں نہیں ہے کیونکہ وہ جب متنازعہ یا ناقابل منتقلی کے زمرہ میں کسی جائیداد کا اندراج کرتے ہیں تو ایسی صورت میں ان جائیدادوں کو آن لائن کردیا جاتا ہے اور جب تک درج کیا گیا تنازعہ حل نہیں ہوتا اس جائیداد کی فروخت یا منتقلی ممکن نہیںہوپاتی ہے۔ محکمہ مال کے عہدیداروں کا کہناہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے جاری کئے جانے والے احکامات کے مطابق ان لوگوں کی جانب سے کاروائی کی گئی ہے اور جن جائیدادوں پر معمولی تنازعہ ہے ان جائیدادوں کو بھی مختلف زمروں کے تحت ناقابل منتقلی قرار دیا گیا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاستی حکومت سے مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین نے اس سلسلہ میں نمائندگی کی ہے لیکن اس کے باوجود بھی ان مسائل کو حل نہیں کیا جارہا ہے اور کہا جا رہاہے کہ جب تک اراضیات پر کی گئی شکایات کو حل نہیں کیا جاتا ان کو قابل منتقلی و فروخت کے زمرہ میں شامل کیا جانا مشکل ہے۔ذرائع کے مطابق چیف منسٹر کو بھی دھرانی پورٹل کے سبب پیدا ہونے والے ان مسائل سے واقف کروایا جاچکا ہے اور انہوںنے اس سلسلہ میں تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔م