آفات سماوی اور دیگر معاملات پر تلنگانہ سے امتیاز، وزیر اعظم پر سوالات کی بوچھار
حیدرآباد۔/21 جولائی، ( سیاست نیوز) نریندر مودی کی زیر قیادت مرکزی حکومت کے تلنگانہ کے ساتھ امتیازی سلوک پر سوشیل میڈیا پلیٹ فارم پر سٹیزنس نے سوالات کی بوچھار کردی۔ ہزاروں ٹوئیٹس اور ممس کے ذریعہ وزیر اعظم کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ گزشتہ 8 سال کے دوران مرکز نے تلنگانہ کو کیا دیا ہے۔ ’دھوکہ باز مودی ‘ ہائش ٹیاگ سے ٹوئٹس کی بارش ہوئی ہے۔ وعدے کیا ہوئے ، تلنگانہ سے آپ نے کتنا حاصل کیا اور کتنا لٹایا گیا کے سوالات کئے گئے۔ تلنگانہ کے علاوہ دوسری ریاستوں کے سٹیزنس بھی اس بحث میں شامل ہوگئے اور وزیر اعظم سے سوالات کرتے ہوئے ریمارکس کئے۔ بالخصوص قیمتوں میں اضافہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جس سے ہائش ٹیاگ ٹوئٹر کے ٹرینڈنگ سرفہرست ہوگیا اور دن بھر ٹاپ ٹرینڈنگ میں برقرار رہا۔ مرکز کی جانب سے تلنگانہ کی این ڈی آر ایف فنڈز کی عدم اجرائی پر ٹوئٹر میں زیادہ بحث ہوئی ۔ آفات سماوی پر دوسری ریاستوں کو این ڈی آر ایف فنڈز جاری کئے گئے۔ تلنگانہ کو ایک پیسہ بھی جاری نہ کرنے پر سٹیزنس نے وزیر اعظم مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ اپنے ٹوئیٹس کے ساتھ دوسری ریاستوں کو جاری کردہ تفصیلات کی فہرست بھی پیش کی جس میں 2018-19 ، 2021-22 ، 2020-21، 2019-20 میں این ڈی آر ایف کے فنڈز چار مرتبہ آندھرا پردیش، کرناٹک، مدھیہ پردیش ، مہاراشٹرا، اوڈیشہ کو جاری کرنے اور تلنگانہ کو ایک مرتبہ بھی جاری نہ کرنے کی تفصیلات ہیں۔ وزیر اعظم مودی کی آبائی ریاست گجرات کو سال2021-22 میں ایک ساتھ 1000 کروڑ روپئے جاری کئے گئے اور تلنگانہ کو نظرانداز کرنے پر سٹیزنس نے سخت اعتراض کیا۔ دودھ کی اشیاء و دیگر اشیائے ضروریہ پر جی ایس ٹی کے نفاذ، پٹرول، ڈیزل ، پکوان گیس کی قیمتوں میں اضافہ کے علاوہ دوسرے مسائل پر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ن