سینکڑوں طلباء کا احتجاج، ایم سی ڈی نے 13 غیرقانونی سنٹرس کو مہربند کردیا
نئی دہلی :دہلی کے اولڈ راجندر نگر میں ایک کوچنگ سنٹر کے تہہ خانے میں پانی بھر جانے سے 3 طلباء کی موت کا معاملہ شدت اختیار کر تا جارہا ہے۔ اس واقعے کے خلاب اب طلباء کا غصہ پھوٹ پڑا ہے جس کا مظاہرہ انہوں نے راجندر نگر اور کرول باغ میٹرو اسٹیشن کے باہر کیا۔ ان جگہوں پر بڑی تعداد میں طلباء نے جمع ہو کر حکومت و انتظامیہ کے خلاف نعرے لگائے۔خبروں کے مطابق کرول باغ میٹرو اسٹیشن کے باہر احتجاج کے دوران طلباء نے ’وی وانٹ جسٹس‘ کے نعرے لگائے۔ طلباء نے سڑک جام کیا۔ احتجاج کرنے والے طلباء کو سڑک سے ہٹانے میں پولیس کو کافی مشقت کرنی پڑی۔ احتجاج کرنے والے طلباء کو پولیس کے ذریعے حراست میں بھی لیے جانے کی خبر ہے۔ ایسا ہی احتجاج طلباء نے راجندر نگر میں بھی کیا۔ یہاں بھی سینکڑوں کی تعداد میں جمع ہوکر طلباء نے حکومت و انتظامیہ کی اس لاپرواہی کے خلاف اپنے غصے کا اظہار کیا۔اس درمیان دہلی کی وزیر آتشی نے اس واقعہ کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قصورواروں کو ہرگز بخشا نہیں جائے گا۔ اس کے علاوہ دہلی کی میئر شیلی اوبرائے نے بیسمنٹس میں بغیر اجازت و بغیر حفاظتی اقدام کے چلنے والے تمام کوچنگ کلاسیز کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ اولڈ راجندر نگر میں واقع مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کروانے والے راؤ آئی اے ایس کوچنگ کلاسیز کے بیسمنٹ میں شدید بارش کا پانی بھرجانے سے تین طالب علموں کی موت ہو گئی۔ میونسپل کارپوریشن آف دہلی (ایم سی ڈی )نے کل کے واقعہ کے بعد فوری کاروائی کرتے ہوئے آج 13 سیول سرویسز انسٹی ٹیوٹس کو مہر بند کردیا جو تہہ خانے میں چلائے جارہے تھے۔ایم سی ڈی نے اتوار کو غیر قانونی املاک اور کوچنگ سنٹروں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا۔ احتجاجی طلبہ سے بات کرتے ہوئے ایم سی ڈی کے ایڈیشنل کمشنر طارق تھامس نے کہا کہ تہہ خانے میں چلنے والے آٹھ کوچنگ سنٹرز کی نشاندہی کی گئی ہے۔ا نہوں نے کہا کہ سروے کرواتے ہوئے غیر قانونی سنٹرس کے خلاف کاروائی کی جائے گی ۔