ذاکر نائک کا فائونڈیشن غیرقانونی: ٹربیونل

   

نئی دہلی: یو اے پی اے کے تحت ٹربیونل نے اپنے حکم نامہ میں توثیق کی ہے کہ 15 نومبر 2021ء کو حکومت نے جو اعلامیہ ذاکر نائک کے اسلامک ریسرچ فائونڈیشن کے بارے میں جاری کیا وہ حق بجانب ہے۔ اعلامیہ میں فائونڈیشن کو غیرقانونی اسوسی ایشن قرار دیا گیا ہے۔ ٹربیونل نے اپنے حکم نامہ میں کہا کہ آئی آر ایف کو غیر قانونی تنظیم قراردینے کی معقول وجوہات رہی ہیں اور اس کے نتیجہ میں یہ ٹربیونل 15 نومبر 2021ء کو حکومت ہند کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کی تصدیق کرتا ہے۔ اس اعلامیہ کے تحت آئی آر ایف پر 5 سالہ مدت کے لیے امتناع عائد کیا گیا جس پر اثر سابقہ اعلامیہ کی تاریخ سے شروع ہوا۔ وزارت امور داخلہ نے 30 مارچ 2022ء کو اپنے اعلامیہ میں کہا تھا کہ ٹربیونل نے متعلقہ ایکٹ کے سیکشن 4 کے ذیلی حصہ 3 کے تحت اسے حاصل شدہ اختیارات کے مطابق 9 مارچ 2022ء کو حکم نامہ جاری کیا جس کے ذریعہ حکومت ہند کے اعلامیہ کی توثیق کی گئی۔ ذاکر نائک کئی سال سے بیرون ملک ہیں۔