رائے درگ اراضی معاملہ ،SBI کو حکومتی پیشکش قبول

   

حیدرآباد۔7۔جولائی (سیاست نیوز) رائے درگ اراضی معاملہ میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے بورڈ نے ریاستی حکومت کی جانب سے کی گئی پیشکش کو قبول کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ بتایاجاتاہے کہ 30جون کو اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے بورڈ آف گورنرس کے اجلاس میں حکومت کی تجویز کو مشروط منظوری دی جاچکی ہے اور کہا جارہاہے کہ رائے درگ میں ہی SBI کے ذمہ داروں نے 2.5 ایکڑ اراضی کے علاوہ بھارت فیوچر سٹی میں 10 ایکڑ اراضی کے عوض متنازعہ 5 ایکڑ اراضی واپس کرنے میں آمادگی کا اظہار کیا ہے اور اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی جانب سے منظوری کی گئی اس قرار داد کی نقولات کا حیدرآباد کے عہدیداروں کو انتظار ہے۔ محکمہ صنعت کے عہدیداروں کا کہناہے کہ SBI کی منظورہ تجویز کا جائزہ لینے کے بعد ریاستی حکومت کی جانب سے اس پر ردعمل ظاہر کیا جائے گا اور سرکاری طور پر بینک کے عہدیدار و ریاستی حکومت کے ذمہ دار مشاورت کے بعد معاہدہ کرتے ہوئے اراضی کا تبادلہ کریں گے۔ بتایا جاتاہے کہ ریاستی حکومت کے متعلقہ محکمہ جات کے عہدیداروں نے اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے ذمہ داروں سے خواہش کی ہے کہ وہ قرار داد کی منظوری کی بنیاد پر تلنگانہ ہائی کورٹ میں داخل کئے گئے مقدمہ سے دستبرداری اختیار کرتے ہوئے عدالت سے حاصل کئے گئے حکم التواء کو برخواست کروانے کے اقدامات کا آغاز کریں۔بتایاجاتاہے کہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے عہدیدارجلد ہی اس سلسلہ میں قانونی ماہرین سے بات چیت اور مشاورت کے بعد تلنگانہ ہائی کورٹ میں زیر التواء درخواست سے دستبرداری اختیار کرنے کے لئے درخواست داخل کریں گے۔ جامعہ نظامیہ کے تحت وقف اس جائیداد کے متعلق قانونی چارہ جوئی کے سلسلہ میں جامعہ نظامیہ کی جانب سے اب تک بھی مشاورت کا سلسلہ جاری ہے ۔3
جی ایچ ایم سی ایکٹ 1995 کی دفعہ 450کے تحت نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ پردیپ کنسٹرکشن کے ذمہ داروں نے جعلی دستاویزات اور گمراہ کن اسناد ات داخل کرتے ہوئے یہ اجازت نامہ حاصل کیا تھا جسے اب مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے منسوخ کردیا ہے۔ بتایاجاتاہے کہ گذشتہ یوم کمشنر ’حیڈرا‘ مسٹر اے وی رنگا ناتھ‘ کمشنر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد مسٹر آر وی کرنن ‘ ضلع کلکٹر حیدرآباد ڈاکٹر پرینکا آلہ کے علاوہ دیگر عہدیداروں نے گذشتہ یوم مذکورہ اراضی اور اس حسین ساگر کے حدود میں ہونے سے متعلق محکمہ آبپاشی کی شکایت پر مشترکہ سروے کرتے ہوئے تفصیلات حاصل کی تھیں۔ پردیپ کنسٹرکشن کو جاری کی گئی نوٹس اور اجازت نامہ کی تنسیخ کے مکتوب میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیداروں نے اس بات کی بھی صراحت کی ہے کہ پردیپ کنسٹرکشن نے 2سیلر اور 17منزلہ عمارت کی تعمیر جس اراضی پر کی ہے وہ اراضی بھی تنازعات کا شکار ہے اور اس سلسلہ میں موصول ہونے والی شکایات بھی موجود ہیں اسی لئے مذکورہ اراضی پر کی گئی تعمیرات کے اجازت نامہ کو منسوخ کردیا گیا ہے۔بتایاجاتا ہے کہ ضلع انتظامیہ اور بلدی عہدیداروں کے علاوہ ’حیڈرا‘ کے ذمہ داروں نے سوماجی گوڑہ میں تعمیر کی گئی اس عمارت میں موجود فلیٹس کے مالکین جو جاری کئے گئے ORC آکیوپینسی رائیٹس سرٹیفیکیٹ کی درخواستوں کو زیر التواء رکھنے کا فیصلہ کیا ہے علاوہ ازیں جن مالکین فلیٹس کو ORC جاری کئے جاچکے ہیں انہیں بھی منسوخ کردیاگیا ہے۔3