ریونت ریڈی حکومت ہر خاتون کو 35 ہزار روپئے باقی ، لا اینڈ آرڈر کی صورتحال انتہائی ابتر
حیدرآباد۔ 12 فروری (سیاست نیوز) بی آر ایس کی رکن قانون ساز کونسل کے کویتا نے کہا کہ کانگریس لیڈر راہول گاندھی کو ورنگل آنے کی ہمت نہیں ہے، اس لئے انہوں نے راہ فرار اختیار کی ہے۔ آج وہ اپنی قیام گاہ پر جاگروتی ویمن شعبہ کا اجلاس طلب کیا ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے عوام سے جو وعدے کئے تھے، اس کے بارے میں عوام کی جانب سے سوال کے ڈر سے راہول گاندھی نے اپنے دورۂ ورنگل کا پروگرام منسوخ کیا ہے۔ بی آر ایس کی رکن قانون ساز کونسل نے کہا کہ راہول گاندھی نے ورنگل میں کسان ڈکلیریشن کا اعلان کیا تھا جس پر آج تک عمل نہیں کیا گیا۔ اس کے بارے میں ورنگل کے کسان سوال کرنے کیلئے تیار تھے، اس بات کی اطلاع ملتے ہی راہول گاندھی نے اپنے پروگرام کو منسوخ کردیا۔ کانگریس پارٹی کی جانب سے خواتین کی فلاح و بہبود کیلئے کئے گئے وعدوں پر بھی عمل نہیں کیا۔ اسمبلی انتخابات کے دوران سونیا گاندھی، پرینکا گاندھی اور راہول گاندھی نے تلنگانہ میں آکر عوام سے مختلف وعدے کئے تھے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی کے چہرے کو دیکھ کر تلنگانہ کے عوام نے کانگریس کو ووٹ نہیں دیا بلکہ سونیا گاندھی، پرینکا گاندھی اور راہول گاندھی کے وعدوں پر بھروسہ کرتے ہوئے کانگریس کو کامیاب بنایا۔ 14 ماہ گذر جانے کے باوجود کانگریس حکومت خواتین کو ماہانہ 2,500 روپئے معاوضہ ادا کرنے کے وعدہ کو پورا نہیں کیا۔ اس طرح ریونت ریڈی کی حکومت ریاست کی ہر ایک خاتون کو 35,000 روپئے باقی ہے۔ کویتا نے کہا کہ ریاست میں خواتین محفوظ نہیں۔ ریونت ریڈی دور حکومت میں جرائم کی شرح میں 20% کا اضافہ ہوا ہے۔ لڑکیاں کالج جاکر گھر واپس آنے تک والدین فکرمند رہتے ہیں۔ شہر کے مضافاتی علاقوں میں چوروں اور لٹیروں کا راج ہے۔ کے سی آر کے 10 سالہ دور حکومت میں ایک فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا تھا۔ ریونت ریڈی کے دور حکومت میں ریاست کے مختلف مقامات پر لا اینڈ آرڈر کی صورتحال بگڑ چکی ہے۔ 70% سی سی ٹی وی کیمرے ناکارہ ہوچکے ہیں۔ اپنے حفاظت کیلئے خواتین اور نوجوان لڑکیوں کو جدوجہد کرنا پڑ رہا ہے۔ کانگریس حکومت نے کے سی آر کی دُشمنی میں ’’کے سی آر کٹ‘‘ کو بھی روک دیا گیا۔ 2
ریاست میں سرکاری دواخانوں کی صورتحال بھی انتہائی ابتر ہوچکی ہے، وہاں پر بنیادی سہولتیں بھی دستیاب نہیں ہیں۔ خواتین کیلئے مفت بس کی سہولت کا انتظام تو کیا گیا ہے مگر بسوں کی تعداد ہی گھٹا دی گئی ہے۔2