جنیوا : سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں یوکرینی جنگ کے باعث روس کے خلاف احتجاج کرنے والی کم از کم تین خواتین کو گرفتار کر لیا گیا۔ ان میں سے دو کے سینے برہنہ تھے جبکہ تینوں پر ایک یادگار کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔ جنیوا سے جمعہ 13 دسمبر کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق یہ تینوں خواتین حقوق نسواں کے لیے کام کرنے والی سرگرم کارکن ہیں اور وہ سوئٹزرلینڈ کے اس شہر میں اقوام متحدہ کے دفاتر والی عمارت کے سامنے احتجاج کر رہی تھیں۔ ان فیمینسٹ مظاہرین کا مقصدروس کی طرف سے یوکرین میں فوجی مداخلت کے ساتھ شروع ہونے والی جنگ کے پس منظر میں ماسکو کے خلاف احتجاج کرنا تھا۔ ساتھ ہی وہ اقوام متحدہ کے خلاف بھی اس لیے احتجاج کر رہی تھیں کہ ان کے بقول یہ عالمی ادارہ اب تک کیف اور ماسکو کے مابین ہزارہا انسانوں کی موت کا سبب بننے والے خونریز تنازعہ کو رکوانے میں ناکام رہا ہے۔ نیوز ایجنسی اسوسی ایٹڈ پریس نے اپنی رپورٹوں میں لکھا ہے کہ ان تین احتجاجی خواتین میں سے دو کا تعلق حقوق نسواں کے لیے سرگرم فیمین (FEMEN) نامی گروپ سے ہے، جو مختلف موضوعات پر اشتعال انگیز احتجاج کے لیے جانا جاتا ہے۔