روس کا کرسمس کے موقع پر یوکرین میں جنگ بندی سے انکار

   

ماسکو : روس نے کرسمس کے موقع پر یوکرین کا فائربندی کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے جبکہ دوسری جانب ’قیدیوں کے تبادلے‘ کے تحت امریکی شہری سمیت متعدد افراد کو رہا کر دیا ہے۔برطانوی خبر رساں ادارہ روئٹرز کے مطابق روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے مذاکرات نہیں ہو رہے تاہم یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے رواں ہفتے کہا تھا کہ ’روس کو کرسمس کے موقع فوجوں کو پیچھے ہٹانا چاہیے تاکہ جنگ خاتمے کی طرف بڑھا جا سکے۔‘اس کے جواب میں روسی حکام نے کہا ہے کہ ’یوکرین پہلے روس کو پہچننے والے نقصان کو تسلیم کرے۔‘دوسری جانب امریکہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ جنگ طویل عرصے تک چلے۔وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی نے ایک سوال کے جواب میں صحافیوں کو بتایا کہ ’اس وقت ہم جو کچھ یوکرین کی فضاؤں میں اور زمین پر دیکھ رہے ہیں اس جلد کو جلد سمیٹنا مشکل دکھائی دے رہا ہے اور برسوں تک چل سکتی ہے۔‘بدھ کو صدر زیلنسکی نے بتایا تھا کہ اس روز کیئف پر شدید گولہ باری دیکھنے میں آئی جس میں بڑا ڈرون حملہ بھی شامل تھا۔بمباری میں دو انتظامی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا تاہم دیگر حملوں کو ڈیفنس سسٹم کو ناکام بنایا۔یوکرینی حکام نے کہا ہے کہ روس نے یوکرین کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے تحت ایک امریکی قیدی سمیت درجنوں دیگر افراد کو رہا کر دیا ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یوکرینی صدارتی انتظامیہ کے سربراہ اینڈری یرمارک نے ٹیلی گرام پر پیغام میں لکھا کہ سیودی موریکیزی روسی حراست میں جانے سے قبل ہمارے لوگوں کی مدد کر رہے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ 64 یوکرینی فوجیوں اور چار لاشیں روس کی جانب سے حوالے کی گئی ہیں تاہم یہ نہیں بتایا کہ یہ تبادلہ کیسے اور کہاں ہوا اور جواب میں کتنے افراد روس کے حوالے کیے گئے۔برطانوی اخبار گارڈین نے پچھلے ہفتے موریکیزی کے بارے میں بتایا تھا کہ انہیں جون میں خیرسن میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ روس کے قبضے میں تھا۔