روس کے سابق صدر کا دورہ چین ،جن پنگ سے ملاقات

   

بیجنگ : روس کے سابق صدر اور روس سلامتی کونسل کے حالیہ نائب سربراہ ‘دیمیتری میدویدف’ نے چین کا ہنگامی دورہ کیا ہے۔میدویدف نے سوشل میڈیا سے جاری کردہ ویڈیو پیغام میں دورے کے دوران چین کے صدر ژی جن پنگ کے ساتھ ملاقات کا اعلان کیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ صدر ژی جن پنگ کے ساتھ ہم نے روس۔چین اسٹریٹجک ساجھے داری، دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تعاون اور یوکرین بحران پر بات چیت کی۔چین کی خبر رساں ایجنسی شین خوا نے دورے کے بارے میں ایک جملے کی خبر میں کہا ہے کہ “متحد روس پارٹی کے چئیر مین میدویدف نے چین کمیونسٹ پارٹی کی دعوت پر چین کا دورہ کیا اور کمیونسٹ پارٹی کے چئیر مین اور چین کے صدر شی کے ساتھ ملاقات کی ہے”۔دورہ بحر الکاحل میں روسی اور چینی بحری بیڑے کی ” بحری تعاون 2022″ نامی مشقوں کے آغاز کے دن کیا گیا۔ دورے کے بارے میں کوئی پیشگی اعلان نہیں کیا گیا۔دورے سے متعلق اعلان میں میدویدف کا ” ہم نے یوکرین بحران پر بات چیت کی” کے الفاظ کا استعمال کرنا ذہنوں میں سوالات پیدا کر رہا ہے کہ چین، یوکرین بحران کے بارے میں، کیا موقف اختیار کرے گا۔واضح رہے کہ چین نے اقوام متحدہ کی جنرل کمیٹی کے مذمتی فیصلے میں ہچکچاہٹ کا ووٹ استعمال کیا تھا اور یوکرین بحران کے پہلے دن سے ہی روس کے خلاف “قبضہ”، “حملہ” اور ” مذمت” جیسے الفاظ کے استعمال سے پرہیز کر رہا ہے۔