نئی دہلی، 20 جولائی (آئی اے این ایس) جموں و کشمیرکے چیف منسٹر عمر عبداللہ نے پیر کے روز ریاستی درجہ بحالی کے مطالبے پر نیشنل کانفرنس کے احتجاج میں شرکت کیلئے جنتر منتر سے پرتھوی راج روڈ تک آٹو رکشہ کے ذریعہ سفر کیا۔ ان کے ہمراہ ان کے دونوں بیٹے زہیر عبداللہ اور ضمیر عبداللہ بھی موجود تھے، جو احتجاجی پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے۔ عمر عبداللہ نے ایکس پر لکھا کہ جنتر منتر سے ان کی پیدل روانگی ایک اور جلوس کی شکل اختیارکر رہی تھی، اس لیے انہوں نے دستیاب پہلے آٹو رکشہ میں سفر کرنے کا فیصلہ کیا۔پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے روز نیشنل کانفرنس نے پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی قیادت میں جموں وکشمیر کا ریاستی درجہ فوری بحال کرنے کے مطالبے پر احتجاج کیا۔
مظاہرین نے وزیر اعظم نریندر مودی سے پارلیمنٹ میں کیے گئے ریاستی درجہ بحال کرنے کے وعدے کو پورا کرنے کا مطالبہ کیا۔احتجاج میں جموں و کشمیر کانگریس کے صدر طارق حامد قرہ اورکانگریس کے سینئر رہنما غلام احمد میر سمیت دیگر رہنما بھی شریک ہوئے۔ مظاہرین نے اپنا وعدہ پورا کرو، جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق اور وقار بحال کرو اورمکمل ریاستی درجہ بحال کرو جیسے نعرے درج پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔فاروق عبداللہ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے پارلیمنٹ، سپریم کورٹ اور جموں و کشمیر کے عوام سے ریاستی درجہ بحال کرنے کا وعدہ کیا تھا، جسے اب پورا کیا جانا چاہیے۔واضح رہے کہ احتجاج پہلے جنتر منتر پر ہونا تھا، تاہم دہلی انتظامیہ کی جانب سے بروقت اجازت نہ ملنے کے باعث مقام تبدیل کردیا گیا۔ دوسری جانب کاکروچ جنتا پارٹی کے کارکنوں نے بھی پارلیمنٹ کی جانب مارچ کیا، جنہیں پولیس نے رئیسینا روڈ پر روک دیا، جبکہ پارٹی نے دعویٰ کیا کہ ان کے نمائندوں نے مرکزی وزیر جے پی نڈاسے ملاقات کر کے اپنے مطالبات پیش کیے۔