ریٹائرڈ آئی پی ایس آفیسر کی اہلیہ کے قتل میں ملوث خاطیوں کی نشاندہی

   

گرفتار کرنے پولیس سرگرداں، دس خصوصی ٹیموں کی تشکیل، سی ایچ روپیش کو اہم ذمہ داری
حیدرآباد 10 مئی (سیاست نیوز) ہائی سکیورٹی کے حامل شہر پرشاسن نگر جوبلی ہلز میں ریٹائرڈ آئی پی ایس عہدیدار ونئے رنجن رے کی اہلیہ کے بہیمانہ قتل میں ملوث خاطیوں کی نشاندہی کرنے میں پولیس نے کامیابی حاصل کی ہے لیکن اُن تک پہونچنے میں ہنوز ناکام ہے۔ قتل کے بعد سٹی پولیس کمشنر وی سی سجنار نے پولیس کی 10 خصوصی ٹیمیں تشکیل دیتے ہوئے اُنھیں ملک کی مختلف ریاستوں بالخصوص نیپال کے سرحدی علاقوں میں روانہ کردیا تھا جبکہ سٹی پولیس عملہ نے اب تک کی تحقیقات میں یہ پتہ لگایا کہ نیپالی گھریلو ملازمہ کلپنا جو اِس کیس کی کلیدی ملزم ہے، دیگر 2 ملزمین کی مدد سے آئی پی ایس عہدیدار کی بیوی تنوجہ رے کا گلا گھونٹ کر قتل کرنے کے بعد بذریعہ آٹو سیدھے نامپلی اسٹیشن پہونچی۔ پولیس نے تقریباً 200 سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں کا تجزیہ کیا جس میں یہ پتہ لگا کہ کلپنا تلنگانہ اکسپریس کے جنرل کمپارٹمنٹ میں سوار ہوئی اور ناگپور تک پہونچنے کا اندازہ لگایا جارہا ہے لیکن ریلوے کی بوگیوں کی فوری تلاشی بھی لی گئی تاہم پولیس کو خاطیوں کا پتہ نہیں چل سکا۔ پولیس نے مقام واردات کا بھی تفصیلی معائنہ کیا جس میں یہ معلوم ہوا کہ ریٹائرڈ آئی پی ایس عہدیدار ونئے رنجن رے علاج کے لئے بنگلور گئے ہوئے تھے جس کا فائدہ اُٹھاکر گھریلو ملازمہ کلپنا نے منصوبہ بند طریقہ سے اپنے 2 ساتھیوں کو وہاں طلب کرلیا۔ قتل سے کچھ دیر قبل وہ مسلسل موبائیل فون پر بات کررہی تھی اور یہ مناظر گھر کے سی سی ٹی وی کیمروں میں محفوظ ہوگئے۔ ٹاسک فورس پولیس نے مقام واردات کا موبائیل ٹاور ڈمپ حاصل کرلیا اور اِس کے ذریعہ اہم شواہد اکٹھا کئے جارہے ہیں اور اِس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اِس قتل میں جملہ 3 یا 4 ملزمین میں ملوث ہیں۔ پولیس کو اب یہ اہم چیلنج ہے کہ نیپالی گھریلو ملازمہ کلپنا ہندوستان کی سرحد عبور کرکے نیپال پہونچنے پر اُس کی گرفتاری ناممکن ہوجائے گی۔ سٹی پولیس کمشنر وی سی سجنار نے شہر کے نوجوان آئی پی ایس عہدیدار سی ایچ روپیش جو ڈپٹی کمشنر پولیس سکیورٹی، مینٹیننس اینڈ انٹلی جنس (SMI) کو اِس کیس کا انچارج بنایا ہے اور مختلف ٹیموں کی نگرانی کرنے کی ذمہ داری دی ہے۔(ب؍V)