زکوٰۃ کا مقصد دل سے مال و دولت کی محبت نکالنا ہے، زکوٰۃ تحقیق کرکے دی جائے : مولانا ڈاکٹر احسن بن محمد الحمومی

   

حیدرآباد، 24 فروری (پریس نوٹ) ’’زکوۃ کی تقسیم کے وقت اپنے دل کا جائزہ لیں کہ کہیں اس سے دکھاوا نہ ہو اور اس سے اپنی انا اور خود پسندی کا اظہار نہ ہو۔ زکوۃ کے پیسوں سے افطار یا سحری کے انتظام سے زکوۃ ادا نہیں ہوتی۔ جو مستحق نہیں ہیں؛ انھیں زکوۃ دینے سے زکوۃ ادا نہیں ہوگی۔ زکوۃ کا مقصد دل سے مال کی محبت نکالنا ہے۔ اصلاً تو سونا کے بدلے سونا، زمین کے بدلے زمین، پیسے کے بدلے پیسے کی زکوۃ نکالنا ہے، تاکہ زیور، مال و جائیداد کی محبت نکل جائے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ سالہا سال سے زکوۃ نکالی جارہی ہے لیکن دل سے مال کی محبت نہیں نکل رہی ہے؟ جس مال میں دل اٹکا ہوا ہے، اس کی زکوۃ نکالنا ضروری ہے‘‘۔ ان خیالات کا اظہار شاہی مسجد باغ عام، نامپلی کے امام و خطیب مولانا ڈاکٹر احسن بن محمد الحمومی نے کیا۔ مولانا ڈاکٹر احسن بن محمد الحمومی نے کہا کہ زکوۃ ایک فریضہ ہے، جیسے نماز اور روزہ فرض ہے، اسی طرح صاحب استطاعت پر زکوۃ فرض ہے۔ خود اللہ تعالی کا ارشاد ہے مفہوم: ’لوگوں کی معیشت کو ہم نے تقسیم کیا ہے‘۔ اگر آپ کے پاس زکوۃ ادا کرنے کے برابر مال ہے تو زکوۃ فرض ہے۔ اسے نہایت خوشگوار انداز میں تقسیم کرنا چاہیے۔ انسان کے مال میں سے 97.5 فیصد اس کا اپنا اور باقی 2.5 فیصد مال زکوۃ ہے، جس میں ضرورت مندوں، رشتہ داروں اور غربا کی حصہ داری ہوتی ہے۔ زکوۃ مال کے ایک سال گزرنے کے بعد فرض ہوتی ہے۔ اگر زکوۃ کی یہ رقم ادا نہ کی جائے تو باقی مال بھی خراب ہوگا۔ جس کے ذمہ دار خود انسان ہے۔ اللہ تعالی نے حضورؐ سے فرمایا مفہوم: آپ مومنین سے زکوۃ و صدقات لیجئے۔ جس سے انسان کی روح پاک ہوگی۔ مولانا احسن نے کہا کہ اللہ تعالی صدقات کے ذریعہ انسان کو مکمل طور پر پاک کردیتے ہیں۔ شیطان، انسان کو کئی نفل صدقات کروادیتا ہے؛ لیکن زکوۃ کے بارے میں بہانے بناتا ہے۔ اللہ فرماتے ہیں مفہوم: ’زکوۃ کا انکار کرنے والا کافر ہے‘۔ خواتین پر زکوۃ جلدی واجب ہوتی ہے۔ عام طور پر مرد کما کر ضروریات زندگی میں صرف کردیتے ہیں؛ لیکن خواتین کے پاس جائیداد، سونا اور دیگر مال کی وجہ سے زکوۃ کی ذمہ داری مردوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ ہمیں خواتین کو بتانا چاہیے کہ انھیں اپنے مال کی زکوۃ نکالنا ہے۔ زکوۃ سوچ سمجھ کر دی جائے۔ کہیں بھی اور کسے بھی دی جائے تو زکوۃ ادا نہیں ہوگی۔ اپنے اوپر کی رشتہ داریاںجیسے والد، دادا، پڑدادا اور اسی طرح اپنے قریبی رشتہ داروں اولاد، پوتروں اور نواسوں کو زکوۃ نہیں دی جاسکتی۔ ہاں اگر بھائی یا بہن زیادہ مستحق ہیں تو انھیں زکوۃ دی جاسکتی ہے۔ دوستوں، پڑوسیوں اور رشتہ داروں کو بھی دی جاسکتی ہے۔ مولانا احسن نے کہا کہ رمضان ختم بھی ہوجائے گا لیکن اگر گناہوں کی معافی نہ ہو تو یہ بڑے خسارہ کی بات ہوگی۔ توبہ کرنے کیلئے اللہ سے کوئی اپائٹمنٹ لینے کی ضرورت نہیں ہے، توبہ کی کوئی فیس نہیں ہے اور توبہ کرنے کیلئے کسی میں لائن میں کھڑے ہونے کی ضرورت نہیںہے۔ اللہ نے سال کے بارہ مہینے اور چالیس گھنٹے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔ شیطان نوجوانوں کو یہ کہہ کر بے فکر کردیتا ہے کہ ابھی تو جوانی ہے اور توبہ بعد میں کرلیں گے۔ یہ رویہ انتہائی غرور و تکبر کا ہے۔ اس سے اجتناب کرکے توبہ کرلینا چاہیے۔