کچرے کو چار الگ الگ ڈبوں میں جمع کرنا ہوگا ۔ کچرا مکس کرنے پر اب لگے گا جرمانہ
حیدرآباد ۔ 5 ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : ریاستی حکومت نے تلنگانہ کے تمام شہروں میونسپلٹیز اور دیہاتوں میں صفائی کے نظام کو بہتر بنانے اور ماحول کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک انقلابی اور نئی پالیسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ مرکزی حکومت کی جانب سے ملک بھر کے لیے متعارف کرائی گئی ’ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ 2026 ‘ پالیسی کے تحت اب ریاست کے ہر گھر اور اپارٹمنٹ میں کچرا جمع کرنے کے لیے چار الگ الگ رنگوں کے ڈبے تقسیم کئے جائیں گے ۔ شہریوں کے لیے اب لازمی ہوگا کہ وہ اپنے گھر کے کچرے کو ان چار اقسام میں الگ کر کے ہی میونسپلٹی یا پنچایت کے صفائی عملے کے حوالے کریں ۔ تلنگانہ میں اب تک صرف گیلا اور خشک کچرا الگ کرنے کی پالیسی نافذ تھی لیکن اب اپریل سے مرکز کی طرف سے جاری کردہ نئی ہدایات کے مطابق ریاستی محکمہ بلدی نظم و نسق اور دیہی ترقی اس نئی پالیسی کو مکمل طور پر لاگو کرنے کے لیے تیار ہیں ۔ سبز ڈبہ (Green Bin) گیلا کچرا اس میں کچن کا فضلہ ، سبزیوں اور پھلوں کے چھلکے ، بچا ہوا کھانا ، پھول ، چائے اور کافی کی پتی وغیرہ ڈالنی ہوگی ۔ اس کچرے کو کھاد اور بائیو گیس بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا ۔ نیلا ڈبہ (Blue Bin) خشک کچرا اس میں پلاسٹک ، کاغذ ، شیشہ اور دھاتی اشیاء ڈالی جائے گی جنہیں بعد میں ری سائیکلنگ کے لیے بھیجا جائے گا ۔ سرخ ڈبہ (Red Bin) سنیٹری فضلہ اس ڈبے میں سنیٹری پیڈز ، بچوں کے ڈائپرس اور طبی علاج سے جڑی اشیاء رکھی جائے گی ۔ ان اشیاء کو کاغذ میں اچھی طرح لپیٹ کر اس سرخ ڈبے میں ڈالنا ہوگا ۔ کالا ڈبہ (Black Bin) خطرناک اور کیمیکل فضلہ اس میں گھروں سے نکلنے والا خطرناک کچرا جیسے فیوز ، بلب ، پرانی بیٹریاں ، ادویات ، ای ویسٹ ، اسپرے کی بوتلیں اور پینٹ وغیرہ ڈالنا ہوگا ۔ اس نئی پالیسی کے تحت گھروں میں کچرے کو الگ الگ کرنا اب قانونی طور پر لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ صفائی عملے کو واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ صرف وہی کچرا اٹھائیں گے جسے اصولوں کے مطابق الگ الگ کیا گیا ہو اگر کوئی شہری کچرا مکس کر کے دے گا تو عملہ اسے قبول نہیں کرے گا اور بار بار ایسا کرنے یا اصولوں کی خلاف ورزی کرنے پر بھاری جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا ۔ 7 جون کو محکمہ بلدی نظم و نسق کی جانب سے اس پالیسی کا افتتاح کیا جائے گا ۔ جس کے فوری بعد ہر گھر میں چار رنگوں کے ڈبوں کی تقسیم کا عمل بڑے پیمانے پر شروع کردیا جائے گا ۔ اس مہم کا عنوان ’ ہمارا گاؤں ۔ ہماری ذمہ داری ہمارا مستقبل ‘ رکھا گیا ہے ۔۔ 2/m/b