ملک میں نئے آئین کی تشکیل کیلئے ہم اپنے پڑوسی ملک سے مسلسل رابطہ میں: رجب طیب اردغان
انقرہ : ترک صدر اردغان نے کہا ہے کہ ترکی طویل خانہ جنگی سے تباہ حال پڑوسی ملک شام میں ریاستی ڈھانچے کی تعمیر نو اور نئے آئین کی تشکیل میں دمشق میں نئی حکومت کی مدد کرے گا اور انقرہ اس حوالے سے دمشق کے ساتھ رابطوں میں ہے۔ ترکی کے دارالحکومت انقرہ سے جمعہ 20 دسمبر کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق صدررجب طیب اردغان نے یہ بات قاہرہ میں آٹھ ترقی پذیر لیکن مسلم اکثریتی ممالک کے گروپ ‘ڈی ایٹ‘ کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد آج مصر سے واپس ترکی پہنچنے پرصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ ترک سربراہ مملکت اردغان نے کہا کہ ترکی سالہا سال کی خانہ جنگی کے بعد تباہ حال شام کی مدد کرنا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں خاص طور پر ریاستی ڈھانچے کی تعمیر نو اور ملک کے نئے آئین کی تشکیل کے لیے انقرہ حکومت دمشق کی مددکرنا چاہتی ہے۔ صدر اردغان نے صحافیوں کو بتایا کہ اسی سوچ کے تحت انقرہ حکومت اور دمشق میں اقتدار میں آنے والی نئی ملکی انتظامیہ آپس میں رابطوں میں ہیں۔ رجب طیب اردغان نے مزید کوئی وضاحت کیے بغیر صحافیوں کو یہ بھی بتایا کہ ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان جلد ہی اس نقطہ نظر سے دمشق کا دورہ کریں گے کہ وہاں نئی حکومت کے ساتھ نئے ڈھانچے کے بارے میں تبادلہ خیال کر سکیں۔ ترک صدر نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ شام کی نئی حکومت کے دور میں ترک شامی تعلقات میں ایک نئے عہد کا آغاز ہو گا۔ ساتھ ہی صدر اردغان نے یہ بھی کہا کہ یہ بات بہت اہم ہے کہ شام کے خلاف عائد کردہ وہ بین الاقوامی پابندیاں اب ختم کر دی جائیں، جو ماضی میں صدر بشار الاسد کے دور میں شامی ریاست کے خلاف لگائی گئی تھیں۔ شام میں حال ہی میں حکومت مخالف اپوزیشن کے مسلح گروپوں کے اتحاد نے دمشق پر قبضہ کر لیا تھا اور اس سے کچھ ہی دیر قبل برس ہا برس تک اقتدار میں رہنے والے بشار الاسد ملک چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے۔ وہ اب روس میں پناہ لے چکے ہیں۔ شام میں اسد حکومت کے خلاف مسلح اپوزیشن اتحاد کی قیادت ہیئت تحریر الشام کے سربراہ ابو محمد الجولانی کر رہے تھے، جنہوں نے اب اپنے لیے احمد الشرح کے نام کا انتخاب کیا ہے۔ دمشق میں قائم نئی شامی حکومت کی قیادت اب یہی احمد الشرح کر رہے ہیں۔ صدر اردغان نے اس بارے میں خوشی کا اظہار بھی کیا کہ شام میں نئی حکومت کے سربراہ کے طور پر مغربی ممالک کے ساتھ ساتھ مسلم ریاستیں بھی احمد الشرح کے ساتھ رابطہ قائم کر رہی ہیں۔