کاکروچ جنتا پارٹی میں جو داخلی بحث جاری ہے وہ یہ ہے کہ آیا کاکروچ جنتا پارٹی کو ایک سیاسی گروپ میں تبدیل کردیا جانا چاہئے ۔ انتخابات میں حصہ لینا چاہئے یا نہیں ؟ یا پھر اسے ایک پریشر گروپ کے طور پر اپنے وجود کے تسلسل جاری رکھنا چاہئے۔
آدیتی فڈنیس
آج کل ہمارے ملک میں کاکروچیس کے کافی چرچے ہیں اور حالیہ عرصہ کے دوران کاکروچیس نے اپنی پارٹی کاکروچ جنتا پارٹی کے بیانر تلے جنتر منتر پر طلبہ احتجاج منظم کر کے حکمراں جماعت یا حکمراں اتحاد کو پریشان کردیا ۔ ویسے بھی ماضی میں بھی کاکروچیس نے حکومتوں کو پریشان کرنے کا کام بخوبی انجام دیا چنانچہ ہم آپ کو سال 1982 میں لئے چلتے ہیں۔ 1982 میں دلیپ سمیعون جو دہلی یونیورسٹی کے رامجاس کالج میں بیشتر نوجوان طلبہ کے پسندیدہ اور محبوب ٹیچر تھے نکسلی تحریک کے ابتدائی دور میں اس سے وابستہ تھے یعنی وہ ایک نکسلائیٹ تھے ۔ دلیپ کے بارے میں یہ بھی مشہور تھا کہ وہ فرقہ وارانہ سیاست کے کٹر مخالف تھے ۔ ایک مرتبہ کالج انتظامیہ کی جانب سے کالج کے ایک باغباں کی تنخواہ بنا کسی وجہ کے روک لئے جانے کے خلاف انہوں نے بھوک ہڑتال میں حصہ بھی لیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کالج انتظامیہ نے تحقیقات کئے بغیر اس باغباں کی اجرت روک لی تھی ۔ اس واقعہ کے چند دن بعد جب وہ کالج جارہے تھے راستے میں چند افراد کے ایک ٹولی نے ان پر حملہ کیا اور بری طرح شدید زد و کوب کیا، نتیجہ میں وہ زخمی ہوئے اور ان کے بائیں پیر میں دو فریکچر آگئے یعنی دو مقامات پر ہڈی ٹوٹ گئی جبکہ دلیپ سمیعون کے بالائی جبڑا مستقل طور پر ناکارہ ہوگیا۔ اس حملہ میں دلیپ کے 5 دانت بھی ٹوٹ گئے ۔ مسٹر سمیعون پر حملہ کا واقعہ حسن اتفاق سے اُس وقت پیش آیا بجکہ دہلی یونیورسٹی اسٹوڈنٹ یونین کے دفتر میں ایک جوان لڑکی کو مبینہ طور پر جنسی ہراسانی کا شکار بنایا گیا تھا ۔ اس وقت دہلی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کی قیادت اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (ABVP) کر رہی تھی ۔ مذکورہ واقعہ نے کیمپس میں موجود نوجوان خواتین کیلئے پہلے ہی خوف اور ہراسانی کے ماحول کو مزید سنگین بنادیا۔ خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے اس رجحان کو عام طور پر Eve teasing (خواتین سے چھیڑ چھاڑ) کہا جاتا تھا ۔ اس واقعہ کے بعد طلبہ کیلئے وہ صورتحال ناقابل برداشت ہوچکی تھی ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دہلی یونیورسٹی کے مختلف کالجس کے طلبا و طالبات برہم ہوگئے اور انہیں محسوس ہونے لگا کہ اب بہت ہوچکا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے طلبہ نے غیر رسمی طور پر ایک تنظیم کی بنیاد ڈالی جس کا نام کمیٹی اگیسنٹ غنڈہ ازم رکھا گیا اور اس کمیٹی کے بیانر تلے طلبہ دھرنا پر بیٹھ گئے ۔ اس مطالبہ کے ساتھ کہ راجاس کالج کے پرنسپل کرتار سنگھ مستعفی ہوجائیں اور اگر یونیورسٹی کیمپس کو محفوظ بنانا ہو تو وائس چانسلر گرنجش سنگھ کو بھی ان کے عہدہ سے برخواست کردیا جائے ۔ اس دوران کالج پرنسپل کو رخصت پر جانے کی ہدایت دے دی گئی ۔ انہوں نے کرایہ کے کچھ طاقتور افراد کی مدد سے کالج کے حدود میں دوبارہ داخل ہونے کی کوشش کی جس پر انہیں کالج پرنسپل کے عہدہ سے معطل کردیا گیا ۔ اس طرح اپنی متنازعہ حرکت کے باعث کرتار سنگھ کو یہ منفی اعزاز حاصل ہوا کہ وہ دہلی یونیورسٹی کی تاریخ کے ایسے پہلے پرنسپل بن گئے جنہیں انتظامیہ نے امن و ضبط کی خلاف ورزی کی پاداش میں خدمات سے معطل کردیا۔ اس دوران طلبہ نے بطور احتجاج یونیورسٹی جانے والی سڑکوں کو مسدود کردیا اور ہر روز احتجاجی مظاہرے منظم کرنے لگے ۔ طلبہ نے چانسلر گرنجش سنگھ کے دفتر کے باہر بھی رکاوٹیں کھڑی کردیں۔ ان کے پاس بلند حوصلہ ، نعرے اور ایک مقصد تھا جنہیں طلبہ کے ہتھیار کہا جاسکتا ہے ۔ آپ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس دور میں سوشیل میڈیا نام کی کوئی چیز نہیں تھی لیکن احتجاج کی خبر ساری یونیورسٹی میں بڑی تیزی کے ساتھ خود بخود پھیل گئی ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ طلبہ کی اُس تحریک کی قیادت عام طلبہ کا کوئی گروپ نہیں کر رہا تھا بلکہ تحریک کی قیادت کرنے والے بہترین طلبہ تھے جن میں زیادہ تر متوسط خاندانوں سے تعلق رکھنے والے اور خوشحال خاندانوں کے بچے تھے جنہیں طاقت کے بل بوتے پر چلائی جانے والی سیاست سے ایک قسم کی چڑ سی تھی ، وہ اس قسم کی سیاست کو سخت ناپسند کرتے تھے ۔ وہ صرف اور صرف انصاف ، مساوات اور جمہوریت کا استحکام چاہتے تھے۔ ان کی یہ خواہش تھی کہ ادارے اپنے اصل فرائض انجام دیں۔ اگرچہ دیکھنے میں یہ ایک بے مقصد جدوجہد لگتی تھی لیکن در حقیقت ان کا مقصد اجتماعی شعور کو بیدار کرنا تھا۔ جب غنڈہ گردی کے خلاف کمیٹی (CAG) کا قیام عمل میں آیا تو اس کے ارکان نے خود سے سوال کیا کہ ہم کون ہیں ؟ ہم کیا چاہتے ہیں ؟ اور اس حیرت انگیز اتحاد و یکجہتی کے ذریعہ ہمیں کیا حاصل کرنا چاہئے ؟ بہرحال ان سوالات کے بیچ ایک تفصیلی بحث شروع ہوئی کہ آخر ہمیں کیا کرنا چاہئے ؟ کیا سیاسی تحریکوں میں شمولیت اختیار کرنی چاہئے یا خود ایک سیاسی گروپ تشکیل دیا جائے ؟ اس سوال پر بھی بات ہوئی کہ آیا ہمیں ہمیشہ عدم تشددکی راہ اختیار کرنی چاہئے یا ریاستی طاقت کے خلاف کسی قسم کا تشدد بھی جائز ہے؟ کیا اس کمیٹی کا وجود برقرار رہنا ضروری تھا یا ہر شخص کو وہیں سے اپنی راہ اختیار کرلینی چاہئے جہاں وہ پہلے تھا۔ (واضح رہے کہ طلبہ کے احتجاج کے پیش نظر پرنسپل کرتار سنگھ جاچکے تھے اور وہ بھی اس یقین دہانی کے بعد کہ کیمپس میں طالبات کے لئے محفوظ ماحول رہے گا ، ان کی زندگیاں محفوظ رہیں گی) کیا مزید بحث ہونی چاہئے ، خیالات پیش کئے جانے چاہئے ۔ بہرحال اس مسئلہ پر بحث و مباحث کا سلسلہ جاری رہا اور یہ مباحث بھی بے نتیجہ رہے لیکن تنظیم اپنے مقصد کی سمت آگے بڑھتی رہی اور اس کے ارکان نے مختلف شعبوں میں اپنے تجربات کو عملی جامہ پہنایا کسی نے کارپوریٹ سلطنت قائم کی جس کی بنیاد شراکتی مساوات پر تھی اور کچھ ماحولیاتی کارکن بن گئے ۔ بعض نے پیشے صحافت سے وابستگی اختیار کی تو چند عالمی شہرت یافتہ ماہرین تعلیم کی حیثیت سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا لیکن کسی نے بھی اقتدار کی سیاست میں قدم نہیں رکھا ۔ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) بھی اسی طرح کے مسائل پر بحث میں مصروف ہے ۔ اگر احتجاج کی بات کی جائے تو صحتمند ہنگامہ آرائی کا کوئی جواب نہیں، تاہم جب آپ اس میں موبائل فونس ٹوئیٹر ، ٹیلی گرام اور انسٹاگرام وغیرہ کے بے شمار ذرائع ترغیب شامل کردیں تو لوگوں کا ایک طاقتور اور با اثر گروہ وجود میں آجاتا ہے۔ ابھیجیت دیپکے اشوتوش رانکا اور آشی رائے کاکروچ جنتا پارٹی کے بنیادی ارکان کی نمائندگی کرتے ہیں ۔ وہ عام آدمی پارٹی (AAP) کی طرح ہیں لیکن عاپ کے برعکس انہوں نے اس یقین کو ابھی نہیں کھویا کہ سیاست کی کوئی متبادل شکل بھی ممکن ہے۔ ان لوگوں کا یقین ہے کہ ملک میں جو موجودہ سیاست ہے اس کی متبادل سیاست ممکن ہے ۔ کاکروچ جنتا پارٹی میں جو داخلی بحث جاری ہے وہ یہ ہے کہ آیا کاکروچ جنتا پارٹی کو ایک سیاسی گروپ میں تبدیل کردیا جانا چاہئے ۔ انتخابات میں حصہ لینا چاہئے یا نہیں ؟ یا پھر اسے ایک پریشر گروپ کے طور پر اپنے وجود کے تسلسل جاری رکھنا چاہئے۔