حیدرآباد اور مسلم ناموں سے موسوم شہروں سے بی جے پی کی نفرت پھر ایکبار آشکار
وزیراعظم نے حیدرآباد کو بھاگیہ نگر کے نام سے مخاطب کیا ، کے ٹی آر نے احمد آباد کا نام اڈانی رکھنے کیا استفسار
حیدرآباد ۔ 4 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز) : بی جے پی نے تلنگانہ میں اقتدار حاصل کرتے ہی حیدرآباد کا نام تبدیل کرتے ہوئے بھاگیہ نگر سے موسوم کردینے کا اشارہ دیا ہے ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے بھی اپنے خطاب میں حیدرآباد کو بھاگیہ نگر کہتے ہوئے مخاطب کیا ہے ۔ جس پر ٹی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ و ریاستی وزیر کے ٹی آر نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی کے قائدین سے استفسار کیا کہ کیا گجرات کے شہر احمد آباد کا نام تبدیل کر کے اڈانی رکھا جائے گا ۔ واضح رہے کہ حیدرآباد میں سہ روزہ بی جے پی کا قومی اجلاس منعقد ہوا ۔ جس میں وزیراعظم نریندر مودی ، بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا ، مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے علاوہ بی جے پی برسر اقتدار 18 ریاستوں کے چیف منسٹرس مرکزی وزراء کے علاوہ بی جے پی کے قومی قائدین نے شرکت کی ۔ قومی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے حیدرآباد کو بھاگیہ نگر سے مخاطب کیا اور کہا کہ سردار ولبھ بھائی پٹیل کی دلیرانہ کارروائی کی وجہ سے تلنگانہ کا وجود باقی ہے ۔ وزیراعظم کے ان تازہ ریمارکس سے یہ واضح ہوگیا کہ بی جے پی کے قائدین حیدرآباد کا نام تبدیل کرنے کا جو مطالبہ کررہے ہیں اس سے وزیراعظم نریندر مودی نے بھی اتفاق کیا ہے ۔ جس کے بعد حیدرآباد کے نام کی تبدیلی پھر ایک مرتبہ موضوع بحث بن گئی ہے ۔ بی جے پی کے ایک اور قائد دنیش شرما نے بھی حیدرآباد کا نام تبدیل کرنے پر زور دیا اور کہا کہ بہت جلد حیدرآباد کا نام تبدیل ہو کر بھاگیہ نگر ہوجائے گا ۔ 2020 کے دوران منعقدہ جی ایچ ایم سی کے انتخابات کے دوران بی جے پی نے حیدرآباد کا نام تبدیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے انتخابی مہم چلائی تھی ۔ اس وقت بی جے پی کے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ نے انتخابی مہم چلاتے ہوئے کہا تھا کہ اترپردیش میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد فیض آباد کا نام تبدیل کر کے ایودھیا رکھا گیا ۔ الہ آباد کا نام تبدیل کرتے ہوئے پریاگ راج رکھا گیا ، حیدرآباد کا نام تبدیل کر کے بھاگیہ نگر رکھا جائے گا ۔ جھاڑکھنڈ کے چیف منسٹر رگھویار داس نے بھی ماضی میں یہی خیال کا اظہار کیا تھا ۔ بی جے پی کے قائدین کو مسلم ناموں کے شہروں سے کیا دشمنی ہے ، نام تبدیل کرنے سے کیا تاریخ تبدیل ہوجائے گی ۔ کیا سب کا ساتھ سب کا وکاس یہی ہے کہ شہروں کے مسلم ناموں کو تبدیل کردیا جائے ۔ بی جے پی قائدین کے ان بیانات اور اظہار خیال سے واضح ہوجاتا ہے تو انہیں مسلمانوں سے اور مسلم ناموں کے شہروں سے کتنی نفرت ہے۔۔ ن