ٹریفک پولیس چالانات میں مصروف، غیر مجاز پارکنگ اور ٹرانسپورٹ رکشا و آٹوز عوام کیلئے خطرہ
حیدرآباد۔/10جنوری، ( سیاست نیوز) حیدرآباد میں ٹریفک حادثات میں اضافہ کیلئے یوں تو کئی وجوہات ہیں لیکن ان میں سے ایک اہم وجہ رانگ سائیڈ گاڑیوں کا چلانا ہے۔ ٹریفک قواعد کے بارے میں پولیس کی جانب سے شعور بیداری کیلئے بارہا مہم چلائی گئی اور خلاف ورزی کی صورت میں چالانات میں اضافہ کیا گیا۔ باوجود اس کے ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی میں کوئی کمی نہیں آئی۔ شہر کے مرکزی مقامات پر رانگ سائیڈ گاڑیاں چلانے کا خطرناک رجحان ٹریفک حادثات کی صورت میں جانی نقصانات کا سبب بن رہا ہے۔ حیدرآباد میں گذشتہ دو برسوں کے دوران ٹریفک میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا۔ پرانے شہر کے پتھر گٹی سے لے کر نامپلی تک روزانہ صبح اور شام کے وقت غیر معمولی ٹریفک ہوتی ہے اور اس روٹ پر ٹریفک جام روز کا معمول بن چکا ہے۔ ٹریفک پولیس کی جانب سے ون وے ٹریفک کیلئے سڑک پر رکاوٹوں کھڑی کرنے کے باوجود رانگ سائیڈ گاڑیاں چلانے کا رجحان برقرار ہے۔ سدی عنبر بازار مسجد کے اطراف رانگ سائیڈ گاڑیاں چلانے کے نتیجہ میں ایک تو ٹریفک میں رکاوٹ پیدا ہورہی ہے تو دوسری طرف ٹو وہیلرس کو حادثات پیش آرہے ہیں۔ ٹریفک کے باآسانی بہاؤ کیلئے وہاں ٹریفک پولیس کا عملہ متعین ضرور ہے لیکن اسے چالانات کرنے سے فرصت نہیں۔ سڑک کے کنارے ٹریفک پولیس کی ٹیم چالانات میں مصروف رہتی ہے اور پولیس کی نظروں کے سامنے نہ صرف ٹو وہیلرس بلکہ ٹرانسپورٹ کے آٹو اور لاریاں بھی سدی عنبر بازار سے رانگ سائیڈ آکر معظم جاہی مارکٹ کی طرف روانہ ہورہی ہیں۔ معظم جاہی مارکٹ سے افضل گنج کی طرف جانے والی ٹریفک کو بار بار خلل پڑتا ہے اور روزانہ کئی حادثات رونما ہورہے ہیں۔ مقامی افراد نے شکایت کی کہ ٹریفک پولیس کو حادثات کی روک تھام سے دلچسپی نہیں اور وہ معمول وصول کرتے ہوئے سیکل رکشا اور ٹرانسپورٹ آٹوز کو رانگ سائیڈ جانے کی اجازت دے رہے ہیں۔ دن بھر اور شام تک سیکل رکشا اور آٹوز کے ذریعہ سامان کی منتقلی کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ عوام نے شکایت کی ہے کہ حادثات کی صورت میں زخمیوں کو منتقل کرنے میں ٹریفک پولیس تساہل سے کام لیتی ہے اور مقامی افراد کو انسانی ہمدردی کے تحت زخمیوں کو دواخانہ منتقل کرنا پڑ رہا ہے۔ معظم جاہی مارکٹ سے افضل گنج تک سڑک پر گاڑیوں اور خاص طور پر فور وہیلرس کی پارکنگ نے سڑک کو تنگ کردیا ہے۔ عثمان گنج کے اطراف کے علاقہ میں سڑکوں پر لاریاں اور منی ٹرکس کی پارکنگ ٹریفک میں خلل پیدا کررہی ہے۔ ٹریفک پولیس کو چاہیئے کہ وہ سدی عنبر بازار پر زائد عملے کو تعینات کرتے ہوئے ٹریفک کے بہاؤ میں آسانی پیدا کرے اور رانگ سائیڈ گاڑیوں کی آمد کو روکا جائے۔ حادثات کی روک تھام کے ذریعہ اسکولی طلبہ اور خواتین کا تحفظ کیا جاسکتا ہے۔ٹریفک پولیس کو چاہیئے کہ وہ معظم جاہی مارکٹ سے افضل گنج تک غیر مجاز پارکنگ کے خلاف مہم کا آغاز کرے اور اس روٹ پر ٹریفک کے باآسانی بہاؤ کو یقینی بنانے خصوصی منصوبہ تیار کرے۔ر