سرینگر تا بارہمولہ پٹی پر ٹرین خدمات بحال
سرینگر 11 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) مِنی بسیں شہر سرینگر کے بعض علاقوں میں پیر کے دن سے چلنا شروع ہوگئیں جبکہ ریلوے نے سرینگر تا بارہمولہ پٹی میں کامیابی کے ساتھ ٹرین خدمات بحال تھیں۔ قبل ازیں اِس کے بعد ٹرین خدمات منگل کے دن سے بحال کی جائیں گی۔ ریلوے کے عہدیداروں نے کہاکہ ٹرین خدمات 5 اگسٹ سے معطل کردی گئی تھیں جبکہ مرکزی حکومت نے دستور ہند کی دفعہ 370 منسوخ کردی تھی۔ ریلوے کے ایک عہدیدار نے کہاکہ ریلویز نے آزمائشی طور پر پہلی بار 3 ماہ کے دوران جبکہ وادیٔ کشمیر میں بند منایا گیا تھا، خدمات بحال کی ہیں۔ ٹرین خدمات سرینگر تا بارہمولہ پٹی کے درمیان کل سے بحال ہوجائیں گی جبکہ سرینگر تا بنیہال ٹرین خدمات آئندہ چند دنوں میں بحال کی جائیں گی۔ پٹریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا اِس کے بعد آزمائشی ٹرین خدمات نافذ کی جائیں گی۔ ریلویز نے دو کامیاب آزمائشی آمد و رفت اِس پٹی پر پیر کے دن سے بحال کی ہیں۔ اِس سے قبل پوری رہگزر کی مکمل طور پر جانچ کی گئی تھی۔ وادیٔ کشمیر میں 5 اگسٹ کی صبح سے ٹرین خدمات معطل کردی گئی تھیں۔ بعدازاں مرکزی حکومت نے دستور ہند کی دفعہ 370 منسوخ کرنے کے اور ریاست کو دو مرکز زیرانتظام علاقوں میں تقسیم کرنے کے بعد 5 اگسٹ کے بعد پہلی بار منی بسیس سڑکوں پر چلتی دکھائی دیں۔ بین ضلعی ٹیکسیاں اور آٹو رکشا بھی شہر میں اور وادی کے دیگر مقامات پر چلتے دکھائی دیئے۔ عہدیداروں نے کہاکہ خانگی ٹرانسپورٹ کی نقل و حرکت میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوئی۔ شہر کے کئی علاقوں میں ٹریفک جام دیکھے گئے۔ محکمہ ٹریفک نے اضافی جمعیت ڈیوٹی پر اِس علاقہ میں تعینات کی تھی تاکہ ٹریفک بلا رکاوٹ جاری رہے۔ بازار صبح کے وقت چند گھنٹے کھولے گئے بعدازاں دوپہر کو بند کردیئے گئے۔ پری پیڈ موبائیل ٹیلی فونس اور تمام انٹرنیٹ خدمات ہنوز معطل ہیں جنھیں 5 اگسٹ سے معطل کیا گیا ہے۔ بیشتر اعلیٰ سطحی اور دوسرے زمرے کے علیحدگی پسند سیاستدانوں کو احتیاطی حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ اصل دھارے کے قائدین بشمول دو سابق چیف منسٹرس عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی یا تو حراست میں لئے گئے ہیں یا گھر پر نظربند کردیئے گئے ہیں۔ حکومت نے سابق چیف منسٹر اور موجودہ لوک سبھا رکن پارلیمنٹ فاروق عبداللہ کو بھی متنازعہ عوامی تحفظ قانون کے تحت گرفتار کیا ہے۔