سری لنکا: جدوجہد کے دوران صدر کے اختیارات میں کمی

   

کولمبو : سری لنکا کی پارلیمان نے بعض صدارتی اختیارات کو نئی آئینی کونسل کو منتقل کرنے کے منصوبوں کو منظوری دے دی ہے۔ یہ اس احتجاج کا ایک بنیادی مطالبہ تھا، جس کے سبب رواں برس حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پڑے تھے۔ سری لنکا میں قانون سازوں نے 21 اکتوبر جمعہ کے روز بھاری اکثریت سے اس آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ کیا، جس سے صدر کے کچھ اختیارات محدود ہو جائیں گے۔ یہ آئینی اصلاح ان مظاہروں کے مطالبے کے رد عمل میں سامنے آئی ہے، جو ملک میں سیاسی اصلاحات اور شدید اقتصادی مشکلات کے حل کے لیے شروع کیے گئے تھے۔ انہیں احتجاجی مظاہروں کے سبب ہی سابق صدر گوٹابایا راجا پاکسے جولائی میں ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ 225 رکنی ایوان میں حکومت اور حزب کے اختلاف کے 179 ارکان نے اس تحریک کی حمایت کی اور صرف ایک رکن نے ہی مخالفت میں ووٹ کیا۔ آئینی ترمیم کے طور پر اسے منظور کرنے کے لیے دو تہائی اکثریت کی ضرورت تھی۔