گاندھی بھون میں یاترا کا استقبال، 20 اگست کو نئی دہلی میں اختتام
حیدرآباد ۔ 12 اگست (سیاست نیوز) تاملناڈو کے سری پرمبدور سے 8 اگست کو شروع ہوئی راجیو جیوتی یاترا آج حیدرآباد پہنچی۔ کانگریس ہیڈ کوارٹرس گاندھی بھون میں سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ اور صدر تلنگانہ مہیلا کانگریس سنیتا راؤ نے استقبال کیا۔ سری پرمبدور میں جہاں سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی دہشت گرد حملے میں ہلاک ہوئے تھے وہاں سے ہر سال یادگاری جیوتی یاترا کا آغاز ہوتا ہے جو 20 اگست کو نئی دہلی پہنچتی ہے۔ راجیو گاندھی کی جینتی کے موقع پر ہر سال سری پرمبدور سے دہلی تک یاترا کے اہتمام کا مقصد راجیو گاندھی کے سیکولرازم اور قومی یکجہتی کے پیام کو عام کرنا ہے۔ نظام آباد اور عادل آباد سے گذرتے ہوئے راجیو جیوتی یاترا ناگپور پہنچے گی۔ 20 اگست کو راجیو ویر بھومی پر جیوتی کو سونیا گاندھی اور راہول گاندھی کے حوالہ کیا جائے گا۔ گاندھی بھون میں خطاب کرتے ہوئے ہنمنت راؤ نے کہا کہ راجیو گاندھی نے ملک کے اتحاد اور یکجہتی کے لئے اپنی جان قربان کردی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں واحد ایسا سیاسی خاندان ہے جس کے دو اہم ارکان نے ملک پر اپنی جان نچھاور کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت جبکہ ملک میں فرقہ پرست طاقتیں سر اٹھانے کی کوشش کررہی ہیں راجیو گاندھی کے پیام امن کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں راہول گاندھی زیر قیادت بھارت جوڑو یاترا سے لوک سبھا انتخابات میں فرقہ پرست طاقتوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ راہول گاندھی نے ذات پات پر مبنی مردم شماری کا اعلان کیا ہے اور کانگریس زیر اقتدار ریاستوں میں مردم شماری کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ راجیو جیوتی یاترا کی آمد کے موقع پر سینکڑوں کی تعداد میں پارٹی کارکنوں نے راجیو گاندھی امر رہے کے نعرے لگائے۔ 1