برلن : مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے خطے میں جرمن وزارت خارجہ کے ترجمان اور جرمن سینٹر فار انفارمیشن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ڈینس کومیٹ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں اس بات کی تصدیق کی کہ سعودی عرب عالمی توانائی کے ذرائع میں تبدیلی لانے والا ایک اہم ملک ہے جو تیل کا ایک بااثر برآمد کنندہ بھی ہے۔ سعودی عرب آب و ہوا سے ہم آہنگ مستقبل کی تعمیر پر کام کرنا چاہتا ہے۔مثال کے طور پر “سعودی گرین انیشی ایٹو”، “مڈل ایسٹ گرین انیشیٹو” سے اس بات کو سمجھا جا سکتا ہے، مزید سعودیہ نے ہائیڈروجن کی پیداوار پر بھی اپنی توجہ مبذول کی ہے۔جرمنی ریاض میں اپنے ہائیڈروجن دفتر کے ذریعہ اس رجحان کی حمایت کرتا ہے، ایک ایسے وقت میں جب موسمیاتی پالیسی کے فریم ورک کیلئے ہم سب کو اکٹھے ہونے کی ضرورت ہے ، گلوبل وارمنگ روکنے کیلئے COP27 اور اس سے آگے کے اقدامات اٹھانے کی بھی ضرورت ہے۔ یہ وہ گلوبل وارمنگ ہے جس سے انسانیت کی بقا کو خطرات لاحق ہیں۔جیسا کہ جرمنی ان ممالک میں سے ایک ہے جو آب و ہوا کے تحفظ کے لئے سب سے زیادہ پرعزم ہیں ڈینس کومیٹیٹ نے کہا: “آب و ہوا کا بحران ہم سب کو متاثر کرتا ہے، لیکن یہ مکمل طور پر منصفانہ نہیں ہے کہ ایسے ممالک کے لوگ جن کی وجہ سے بہت کم نقصان ہوا ہے موسمیاتی بحران کے نتائج سے دوسروں کے مقابلے میں زیادہ بحران کا سامنا کریں۔جرمنی ایک بڑے صنعتی ملک کے طور پر اپنی ذمہ داری سے آگاہ ہے اور اس لئے وہ خاص طور پر متاثرہ ممالک کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے میں مدد کر رہا ہے۔انہوں نے بات جاری رکھی اور کہا ہم توانائی اور آب و ہوا کی شراکت داری کے ذریعے قابل تجدید توانائیوں کے استعمال کو وسعت دینے والے دوسرے ملکوں کی بھرپور حمایت کر رہے ہیں۔ اس کی ایک مثال جرمنی کی جنوبی افریقہ کے ساتھ “فیئر انرجی ٹرانزیشن پارٹنرشپ” ہے جہاں ہم بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ توانائی پیداوار کا کوئلے پر انحصار مرحلہ وار ختم کرکے توانائی پیدا کرنے کے متبادل ذرائع پر منتقل ہونے سے ہی موسمیاتی بحران کے سنگین نتائج کو کم کیا جاسکتا ہے۔ جرمنی نے 2005 سے لیکر 2020 تک کے 15 برس میں متبادل توانائی کی مالی اعانت میں 10 گنا اضافہ کردیا ہے۔ جرمنی آب و ہوا کے تحفظ کے میدان میں ایک رہنما رہا ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔ اس وقت جرمنی بین الاقوامی موسمیاتی پالیسی کا ایک اہم مرکز ہے۔