تل ابیب : بنجامن نتن یاہو تیسری مرتبہ اسرائیل کاوزیراعظم بننے کی تیاری کر رہے ہیں۔ان کے پاس عہدہ سنبھالنے سے قبل حکومت کی تشکیل کیلئے 21 دسمبرتک کا وقت ہے۔ان کا کہنا ہیکہ سعودی عرب کے ساتھ فی الواقع قابل ذکرتاریخی امن ہوسکتا ہے۔ ٹیلی ویژن کے صحافیوں کے ایک گروپ کیساتھ ایک تفصیلی انٹرویو میں،نتن یاہو نے عرب ریاستوں کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات، مشرق اوسط میں امریکی اتحاد کے ڈھانچہ، ایران میں بدامنی، اسرائیل کی نئی سخت گیردائیں بازو کی حکومت، لبنان کے ساتھ امریکہ کی ثالثی میں سمندری سرحدی معاہدے کے مستقبل اور روس،یوکرین جنگ پرتبادلہ خیال کیا۔نتن یاہو نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی اہمیت کا اعادہ کیا، جو عرب اسرائیل تنازعہ کوختم کرنے کی طرف ایک ’’انقلابی پیشرفت‘‘ہوگی جو ہمارے خطے کو ان طریقوں سے تبدیل کردے گی جن کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔ سعودی حکام مسلسل یہ کہتے رہے ہیں کہ فلسطینی ریاست کے بغیراسرائیل کیساتھ معمول کے تعلقات ممکن نہیں۔ نتن یاہو نے بند دروازوں کے پیچھے مختلف قسم کے امن کے مواقع تلاش کرنے پرآمادگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ’’میں کھلے معاہدوں پر یقین رکھتا ہوں ،ان تک خفیہ طور پر پہنچیں یا علانیہ پہنچیں‘‘۔اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ ان کے اتحادیوں میں سے بعض کے نسل پرستانہ بیانات سے عرب ریاستوں کے ساتھ تعلقات پرکیا اثرپڑسکتا ہے؟
نتن یاہو نے کہا کہ ’’دوسری جماعتیں میرے ساتھ شامل ہو رہی ہیں ، میں ان میں شامل نہیں ہوں گا‘‘۔انہوں نے واضح کیا کہ وہ لبنان کے ساتھ امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے سمندری معاہدے کو مسترد نہیں کریں گے ، لیکن اس بات سے انکار کیا کہ یہ ایک امن معاہدہ تھا۔انھوں نے مزید کہا کہ وہ “ہم خیال ریاستوں کے مابین ٹھوس معاہدوں اور ایران اور اس کی آلہ کار تنظیموں کے ساتھ نام نہادمعاہدوں کے مابین بہت بڑا فرق دیکھتے ہیں جن کی عام طور پر دست خط سے پہلے ہی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔
ان سے العربیہ کی گفتگو کی تفصیل قارئین کی نذرہے:العربیہ : آپ کے والد ایک مشہورمؤرخ تھے جو کارنیل میں پڑھاتے تھے۔آپ نے ان سے کیا سیکھا؟ تاریخ کے بارے میں آپ کی تفہیم اور امریکہ میں پرورش پانے سے اسرائیل اور خطے کے بارے میں آپ کی تفہیم کس طرح متشکل ہوئی؟