سلامتی کونسل کی قرار داد 2254 پر نظر ثانی کا مطالبہ

   

نیویارک: شام کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی گیئر پیڈرسن کے ساتھ دارالحکومت دمشق میں اپنی ملاقات کے دوران ’’ ھیئہ تحریر الشام‘‘ کے رہنما احمد الشرع نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کی قرار داد 2254 کی شقیں اب درست نہیں رہی ہیں۔ انہوں نے قرار داد پر نظرثانی کا مطالبہ کردیا۔انہوں نے سیاسی منظر نامے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے پیش نظر جنگ بندی سے متعلق سلامتی کونسل کی قرارداد اور ملک میں سیاسی تصفیہ تک پہنچنے کے حوالے سے مذکورہ قرارداد کو اپ ڈیٹ کرنے پر زور دیا۔وجہ یہ ہے کہ 18 دسمبر 2015 کو سلامتی کونسل کی طرف سے جاری کردہ اس قرارداد کی بہت سی شقوں میں “اپوزیشن اور حکومت” کے درمیان سیاسی حل کے قیام کی ضرورت کو بیان کیا گیا تھا۔ لیکن چونکہ آٹھ دسمبر کو شام کے سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا ہے تو قرار داد کی بعض شقیں قابل عمل نہیں رہیں۔ کیونکہ نئی حکومت میں پرانے نظام کے افراد کے ساتھ کسی بھی قسم کی شراکت داری سے انکار فطری ہے۔اس قرار داد میں شام میں تمام دشمنیوں کے خاتمے اور جمہوری سیاسی منتقلی کے لیے ایک جامع سیاسی عمل کا آغاز کرنے کی شرط رکھی گئی تھی۔ قرارداد نے اپنی ایک شق میں شہری علاقوں پر فضائی حملے بند کرنے پر بھی زور دیا ہے۔ اس حوالے سے اب بشار کے فرار ہونے کے ساتھ کسی بھی فضائی حملے کی عدم موجودگی کی روشنی میں اب اس شق کی ضرورت نہیں ہے۔