سنبھل (یو پی): ضلع انتظامیہ کی طرف سے تجاوزات اور بجلی کی چوری کے خلاف مہم جاری ہے، جس کے چند دن بعد سنبھل کی شاہی جامع مسجد کے سروے پر پرتشدد جھڑپوں میں چار افراد ہلاک ہو گئے۔ضلعی انتظامیہ نے آج صبح سے تجاوزات کو ہٹانا شروع کر دیا۔ اڈیشنل سپرنٹنڈنٹ پولیس شریش چندر نے کہا کہ نخاسا پولیس کے تحت ہندو پورہ کھیڑا میں گھروں کے باہر تجاوزات صبح 7 بجے سے ہٹا دی جارہی ہیں۔یہ علاقہ سماج وادی پارٹی رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمان برق کی رہائش گاہ کے قریب ہے۔ اس دوران ایک گھر میں گھریلو گیس سلنڈروں کا غیر قانونی ذخیرہ سامنے آیا ہے۔سپلائی انسپکٹر یوگیش شکلا نے اطلاع دی کہ کریک ڈاؤن کے دوران انہیں حاجی ربن نامی شخص کے گھر سے 25 سلنڈر ملے، حالانکہ اہل خانہ نے دعویٰ کیا تھا کہ سلنڈر شادی کیلئے تھے، لیکن وہ مطلوبہ دستاویزات فراہم نہ کرسکے ۔شکلا نے کہاکہ دو سلنڈر بھرے ہوئے اور باقی خالی تھے، انہیں ضبط کر لیا گیاتھا ۔ اس دوران بجلی محکمے نے بجلی چوری کے خلاف مہم بھی شروع کر دی۔محکمہ بجلی کے ایگزیکٹو انجینئر نوین گوتم نے کہا کہ دیپا سرائے پر چھاپے کے دوران حکام کو چار مساجد اور ایک مدرسے میں بجلی کے غیر قانونی کنکشن ملے۔گوتم نے کہا کہ کل تقریباً ایک کروڑ 25 لاکھ روپے کی 130 میگاواٹ بجلی چوری کی جا رہی تھی۔ مہم کے دوران چوری میں ملوث 49 افراد کی شناخت کی گئی ۔ دریں اثنا، ہفتہ کو ضلعی انتظامیہ سے کھولے گئے شنکر مندر میں اتوار کو منتروں بعد درشن اور پوجا شروع ہوئی۔مندر کے مہنت آچاریہ ونود شکلا نے بتایا کہ اس وقت تقریباً 20 سے 25 عقیدت مند یہاں آئے اور نماز ادا کی اور ہنومان چالیسہ کی تلاوت کی گئی۔ضلع مجسٹریٹ راجندر پینسیا نے کہا کہ یہ کارروائی شاہی جامع مسجد علاقے میں امن بحال کرنے اور غیر قانونی سرگرمیوں سے نمٹنے ایک وسیع تر اقدام کا حصہ ہے۔