سوئس اکاؤنٹس کی ضبطی پر ہنڈنبرگ کی تازہ رپورٹ بے بنیاد : اڈانی

   

نئی دہلی : اڈانی گروپ نے امریکی سٹہ باز فرم ہنڈنبرگ ریسرچ کی اس رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سوئس حکام نے وہاں کے بینکوں میں جمع اڈانی خاندان کی 31کروڑ ڈالر کی مشکوک رقم ضبط کر لی ہے ۔ اڈانی گروپ کے ترجمان نے بیان میں کہا کہ ہم ہنڈنبرگ کی طرف سے پیش کیے گئے بے بنیاد الزامات کو واضح طور پر مسترد کرتے ہیں۔ اڈانی گروپ کا کسی بھی سوئس عدالتی کارروائی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی کسی اتھارٹی نے ہماری کمپنی کا کوئی اکاؤنٹ ضبط کیا ہے ۔ گروپ نے کہا ہے کہ ایسی رپورٹس گروپ کی شبیہ کو داغدار کر کے اسے نقصان پہنچانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ مزید برآں، مذکورہ حکم میں سوئس عدالت نے نہ تو ہماری گروپ کمپنیوں کا ذکر کیا ہے اور نہ ہی ہمیں ایسی کسی اتھارٹی یا ریگولیٹری باڈی سے وضاحت یا معلومات کے لیے کوئی درخواست موصول ہوئی ہے ۔ ہم اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ ہمارا بیرون ملک ہولڈنگ کا ڈھانچہ شفاف، مکمل طور پر ظاہر اور تمام متعلقہ قوانین کے مطابق ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ہنڈن برگ کی رپورٹ میں الزامات صاف طور پر مضحکہ خیز، غیر منطقی اور بے تکے ہیں۔ ہمیں یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے کہ یہ ہمارے گروپ کی ساکھ اور مارکیٹ ویلیو کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کے لیے ایک ساتھ کام کرنے والے انہی ساتھیوں کی ایک اور منصوبہ بند اور سنجیدہ کوشش ہے ۔ ترجمان نے کہا کہ اڈانی گروپ شفافیت اور تمام قانونی اور ریگولیٹری تقاضوں کی تعمیل کے لیے پرعزم ہے ۔ ترجمان نے ہنڈنبرگ کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس کوشش کی شدید مذمت کرتے ہیں اور آپ سے گزارش کرتے ہیں کہ اس کہانی کو شائع کرنے سے گریز کریں۔ اگر آپ آگے بڑھنے کا فیصلہ کرتے ہیں، تو ہماری درخواست ہے کہ آپ ہمارا مکمل بیان شامل کریں۔ امریکی فرم ہندن برگ نے سوئٹزرلینڈ کے ایک میڈیا پلیٹ فارم ’گوتھم سٹی‘ کی ایک رپورٹ کی بنیاد پر اپنی رپورٹ میں وہاں کے مختلف بینکوں میں اڈانی گروپ کے ڈپازٹس کو ضبط کئے جانے کی بات کہی ہے ۔ سوئٹزرلینڈ کی میڈیا اسٹیبلشمنٹ نے اس رپورٹ میں یہ نہیں لکھا کہ ضبط شدہ رقم کس کی ہے ۔

اڈانی کیس کی تحقیقات سپریم کورٹ کی نگرانی میں ہونا چاہیے: کانگریس
نئی دہلی : کانگریس نے جمعہ کو کہا کہ سپریم کورٹ کو اڈانی گروپ سے متعلق تحقیقات کا کنٹرول سنبھال لینا چاہیے اور ‘اسکیم’ کی مکمل تحقیقات کے لیے فوری طور پر ایک مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (JPC) تشکیل دی جانی چاہیے۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے یہ مطالبہ کرنے کے ساتھ ساتھ ایک خبر کا حوالہ دیا جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سوئس حکومت کے ایک ادارے نے اڈانی گروپ سے وابستہ ایک شخص کے 311 ملین ڈالر (2،610 کروڑ روپے) کے پانچ بینک اکاؤنٹس سے لین دین روک دیا ہے۔