سوال : زید کی عمر تقریباً ۵۵ سے زائد ہے ‘ زید چلنے پھرنے پر قادر ہے، لیکن مطاف میں طواف کے دوران جو ہجوم رہتا ہے اس کو دیکھ کر طبیعت پست ہوجاتی ہے اور طواف کرنے کی ہمت نہیں ہوتی ۔ اگر زید طواف زیارت کیلئے چند لوگوں کو کرایہ دے جو زید کو پالکی میں بٹھا کر طواف کرادیں تو کیا اس سے زید کا طواف ادا ہو جائیگا یا نہیں۔ طواف کے دوران چمڑے کے سلے ہوئے جوتے پہن سکتے ہیں یا نہیں ؟
جواب : پیدل طواف کرنا واجب ہے اگر کسی شخص کو کوئی عذر ہو ‘ پیدل طواف کرنے پر قادر نہ ہو تو ایسے شخص کو سوار ہو کر طواف کرنے کی اجازت ہے اور اگر کوئی شخص بغیر کسی عذر کے سوار ہو کر طواف کرے تو اس پر دوبارہ طواف کرنا واجب ہے جب تک کہ وہ مکہ مکرمہ میں ہو اور اگر وہ اپنے وطن کو لوٹ جائے اور طواف نہ کرے تو اس پر دم لازم ہوگا ۔ بدائع الصنائع ج ۲ ص۳۱۱ میں ہے ’’ و من واجبات الطواف أن یطوف ماشیا لا راکباً الا من عذر حتی لو طاف راکباً من غیر عذر فعلیہ الاعادۃ مادام بمکۃ و ان عاد الی أھلہ یلزمہ الدم‘‘۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر سوار ہو کر طواف فرمایا تھا ۔ ’’عن جابر رضی اللہ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم طاف راکباً لیراہ الناس فیسالوہ و یتعلموا منہ‘‘ (مسند احمد ۳؍۷۱۳) حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کا سبب بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوار ہو کر طواف کرنے کا مقصد یہ تھا کہ لوگ آپ کو دیکھ کر سیکھ سکیں اور مسائل دریافت کرنا ہوں تو معلوم کرسکیں ۔ مطاف میں ازدحام کا خوف کوئی عذر نہیں ہے ۔لہذا آپ چونکہ پیدل طواف کرنے پر قادر ہیں اور کوئی عذر نہیں اس لئے آپ پرپیدل طواف کرنا واجب ہے ۔ چمڑے کے موزے یا نعلین پہن کر طواف کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں بشرطیکہ وہ پاک ہوں اور پشت قدم کی ہڈی کھلی رہے عالمگیری جلد اول ص ۲۲۴ میں ہے: ’’ و لا یلبس مخطیا قمیصاً او قباء … أو خفا الا أن یقطع الخف اسفل من الکعبین کذا فی فتاوی قاضی خان و الکعب ھنا المفصل الذی فی وسط القدر عند معقد الشراک کذا فی التبیین ۔کیونکہ نبی اکرم ﷺسے مروی ہیکہ آپ ﷺنے نعلین کے ساتھ طواف فرمایا ۔ ’’ روی عن النبی صلی ﷲ علیہ وسلم أنہ طاف مع نعلیہ‘‘(مسند ابو یعلی ۸۴۳)
احرام کی حالت میں ٹوٹے ہوئے ناخن کو نکالنا
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر حج کے دوران مزدلفہ سے واپسی کے دوران ٹھوکر لگ کر پاؤں کا ناخن تقریباً ٹوٹ جائے اور وہ لٹک رہا ہو، جس سے کافی تکلیف ہوتی ہے۔ اگر وہ ناخن نکال دیا جائے تو کیا احرام کی حالت میں ناخن نکالنے سے کوئی کفارہ لازم ہے یا نہیں ؟
جواب : حالت احرام میں اگر ناخن ٹھوکر یا کسی وجہ سے ٹوٹ جائے اور لٹکتے رہے اور محرم ایسے ناخن کو نکال دے تو شرعاً اس پر کوئی چیز واجب نہیں۔ عالمگیری جلد اول ص۲۴۴ میں ہے : انکسر ظفر المحرم و تعلق فاخذہ فلا شیئی علیہ کذا فی الکافی۔ فقط واﷲأعلم