نئی دہلی، یکم مئی (یو این آئی) سپریم کورٹ نے کانگریس لیڈر پون کھیڑا کو آسام پولیس کی جانب سے درج ایف آئی آر کے معاملے میں جمعہ کو پیشگی ضمانت دے دی ہے ۔ یہ معاملہ وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کی اہلیہ رینیکی بھوئیاں سرما کی شکایت پر درج کیا گیا تھا۔ مسٹر کھیڑا نے محترمہ سرما پر ایک سے زیادہ پاسپورٹ رکھنے کے الزامات لگائے تھے ۔ جسٹس جے کے ماہیشوری اور جسٹس اے ایس چندورکر کی بنچ نے گوہاٹی ہائی کورٹ کی جانب سے کھیڑا کی پیشگی ضمانت کی درخواست مسترد کیے جانے کو چیلنج کرنے والی عرضی پر جمعرات کو اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ یہ فیصلہ جمعہ کو جاری کیا گیا۔ اس میں سپریم کورٹ نے کہا کہ گوہاٹی ہائی کورٹ کا مشاہدہ “ریکارڈ پر موجود مواد کے مناسب جائزے پر مبنی نہیں تھا اور ناقص معلوم ہوتا ہے ، خاص طور پر ملزم پر بوجھ ڈالنے کے معاملے میں۔” عدالت نے مزید کہا کہ الزامات اور جوابی الزامات بادی النظر میں سیاسی دشمنی سے متاثر نظر آتے ہیں اور حراست میں پوچھ گچھ کی ضرورت کا جواز پیش نہیں کرتے ۔ اس کی جانچ مقدمے کے دوران کی جا سکتی ہے ۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس کے مشاہدات صرف پیشگی ضمانت دینے کے سوال تک محدود ہیں اور فوجداری کارروائی کے جواز کو متاثر نہیں کریں گے ، جس کا فیصلہ قانون کے مطابق آزادانہ طور پر کیا جائے گا۔ قابلِ ذکر ہے کہ مسٹر کھیڑا نے اس معاملے میں کیس درج ہونے کے بعد سب سے پہلے تلنگانہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، جس نے 10 اپریل کو انہیں آسام کی متعلقہ عدالت سے راحت حاصل کرنے کے لیے ایک ہفتے کی ٹرانزٹ پیشگی ضمانت دی تھی۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے 15 اپریل کو اس راحت پر روک لگا دی تھی۔
لیکن واضح کیا کہ آسام کی مجاز عدالت میں دائر کسی بھی پیشگی ضمانت کی درخواست پر آزادانہ طور پر فیصلہ کیا جانا چاہیے ۔ بعد میں گوہاٹی ہائی کورٹ نے ان کی درخواست یہ کہتے ہوئے مسترد کر دی تھی کہ معاملہ صرف ہتکِ عزت تک محدود نہیں ہے اور دستاویزات کے ماخذ کا پتہ لگانے کے لیے حراست میں پوچھ گچھ ضروری ہے ، جس کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔