سڑک سے سنسد تک نوجوانوں کی جدوجہد کے آگے مودی کو شکست: ریونت ریڈی

   

کسانوں کے بعد طلبہ سے مودی حکومت کی ہار، تعلیمی اصلاحات پر پارلیمنٹ میں مباحث کی ضرورت، اپوزیشن سے تجاویز حاصل کرنے کا مطالبہ
حیدرآباد۔ 26 جولائی (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے مرکز کی نریندر مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ نوجوانوں کے اتحاد کے نتیجہ میں مرکزی حکومت کو وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفی پر مجبور ہونا پڑا۔ حیدرآباد میں آج قومی میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ نوجوانوں کی طاقت کے سامنے 56 انچ کا سینہ رکھنے والی نریندر مودی کو آخر کار جھکنا پڑا۔ وہ سمجھتے تھے کہ 56 انچ کا سینہ رکھتے ہوئے وہ ناقابل تسخیر طاقت ہیں۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ 2014 سے ملک کے سیاسی حالات کا جائزہ لیں تو یہ دوسرا موقع ہے جب مودی حکومت کی ہار ہوئی ہے۔ پہلی شکست کسانوں کے مقابلے ہوئی تھی جب کسانوں کو ملٹی نیشنل کمپنیوں اور کارپوریٹ افراد کے پاس گروی رکھنے کی سازش کی گئی۔ راہول گاندھی نے لوک سبھا میں کسانوں کے حق میں آواز اٹھائی اور کسانوں کو غلام بنانے کی کوشش کی مخالفت کی تھی۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ جس وقت کسانوں کا مسئلہ لوک سبھا میں آیا وہ ملکاجگیری رکن پارلیمنٹ کے طور پر ایوان میں موجود تھے۔ چیف منسٹر نے الزام عائد کیا کہ مودی حکومت نے عوامی مسائل کو کچلنے اپوزیشن کے خلاف تحقیقاتی ایجنسیوں کو استعمال کیا اور انتقامی کارروائی کے ذریعہ سیاسی مخالفین کی آواز کچلنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مغربی بنگال، دہلی اور مہاراشٹرا میں اپوزیشن کو کمزور کرنے کی سازش کی گئی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ نیٹ امتحانی پرچہ کے افشاء کے معاملہ میں نوجوانوں نے سڑک سے سنسد تک جدوجہد کی اور آخر کار مودی حکومت کو شکست دے دی۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کی عادت بن چکی ہے کہ عوامی مسائل اٹھانے سے روکنے اپوزیشن کو دھمکایا جائے اور مقدمات درج کئے جائیں۔ اس مرتبہ انہوں نے اپوزیشن کے خلاف ای ڈی، انکم ٹیکس اور سی بی آئی کے استعمال کی کوشش کی۔ مغربی بنگال، دہلی اور مہاراشٹرا میں اپوزیشن پارٹیوں میں پھوٹ پیدا کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ امتحانی پرچہ کے افشاء معاملہ میں ملک کے تمام نوجوان سڑکوں پر اتر آئے۔ سنسد سے پارلیمنٹ تک جدوجہد کے ذریعہ حکومت کو شکست دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جب نوجوان اور کسان حکومت کی پالیسیوں کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں تو حکومت کو شکست تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ اور اپوزیشن کے مسلسل احتجاج کے بعد دھرمیندر پردھان کو وزیر تعلیم کی حیثیت سے استعفی دینا پڑا۔ اپوزیشن نے پارلیمنٹ میں تحریک التواء کے ذریعہ پردھان کے استعفی کا مطالبہ کیا تھا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ طلبہ اور اپوزیشن کی جانب سے پیش کردہ دیگر مطالبات کے تسلیم کئے جانے تک طلبہ اور اپوزیشن کی جدوجہد جاری رہے گی۔ ایک سوال پر ریونت ریڈی نے کہا کہ تعلیم اور امتحانی سسٹم میں اصلاحات ضروری ہیں۔ اس مسئلہ پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں وسیع تر مباحث کی ضرورت ہے۔ اپوزیشن، ماہرین اور طلبہ کی رائے حاصل کرتے ہوئے حکومت کو فیصلہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ امتحانی سسٹم کے ذمہ داروں کو جوابدہ بنایا جائے۔ جو کوئی بھی بدعنوانیوں کے ذمہ داری پائے جائیں ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ قومی سطح کے امتحانات میں شفافیت کے ذریعہ تعلیمی ظام کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ 1؍F