ریاست میں مرکزی ایجنسیوں کی کارروائیوںمیں تیزی کا امکان ۔ جی ایس ٹی حکام سرگرم
حیدرآباد۔16۔ڈسمبر(سیاست نیوز) مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کی تلنگانہ میں کاروائیوں میں آئندہ چند ہفتوں میںمزید اضافہ کا امکان ہے ۔ کہاجا رہاہے کہ مرکزی حکومت نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور محکمہ انکم ٹیکس کے علاوہ اب جی ایس ٹی عہدیداروں کو بھی ہدایت دی کہ وہ ان لوگوں کے خلاف کاروائی کریں جو کہ جی ایس ٹی کے ادخال میں دھاندلیوں کے مرتکب ہیں۔ ذرائع کے مطابق جی ایس ٹی عہدیدارو ںکی جانب سے کم آمدنی اور اخراجات بتانے والے ایسے تاجرین کی نشاندہی کی گئی جو لاکھوں روپئے کے کرایہ یا خرید و فروخت کرتے ہیں اور ان کے کاروبار لاکھوں سے تجاوزکرچکے ہیں لیکن وہ ان رقومات کے متعلق جی ایس ٹی حکام کو گمراہ کن حساب پیش کرکے جی ایس ٹی کی چوری کے مرتکب بن رہے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ جی ایس ٹی چوری اور دھاندلیوں کے مرتکب افراد میں رئیل اسٹیٹ تاجرین اور دیگر سہولتوں کی فراہمی کرنے والے بھی شامل ہیں ۔ مرکز نے تلنگانہ میں محکمہ انکم ٹیکس اور ای ڈی کو متحرک کرنے کے بعد اب ان تاجرین اور صنعت کاروں کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا جنہیں سیاسی سرپرستی حاصل ہے اور وہ اس کا فائدہ اٹھاکر جی ایس ٹی حکام کو گمراہ کررہے ہیں۔ سابق میں جی ایس ٹی عہدیداروں نے ٹھوک تاجرین کے علاوہ ایسے تاجرین کو جو بغیر بل کے رقومات وصول کرتے ہیں اور خرید و فروخت انجام دیتے ہیں ان کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا تھا لیکن اب جو منصوبہ بندی کی جار ہی ہے اس کے مطابق بڑے تاجرین جو کہ جی ایس ٹی ‘ انکم ٹیکس معاملات میں دھوکہ دہی کے ذریعہ کروڑہا روپئے کے خرد برد میں ملوث ہیں۔ سیاسی قائدین کے خلاف کارروائی کے مرکزی ایجنسیوں کے نشانہ پر رئیل اسٹیٹ تاجرین اور ایسے سرکردہ تاجرین ہیں جو کہ بینک سے مربوط لین دین سے زیادہ نقد کاروبار کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔م