سیف الدین سوز کاغلام نبی خیال کے انتقال پر اظہار افسو س

   

سری نگر: کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر پروفیسر سیف الدین سوز نے اتوار کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ :‘میں معروف دانشور ، شاعر اور ادیب غلام نبی خیال کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتا ہوں۔ غلام نبی خیال صاحب کو میں تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے جانتا تھا۔انہوں نے کہا کہ وہ ایک حقیقی اسکالر تھے جنہوں نے کشمیری ، اردو اور انگریزی زبانوں میں نثر اور شاعری لکھی اور ان زبانوں میں ان کی خدمات کو کافی سراہا گیا ۔مسٹر سوزکے مطابق دوسری چیزوں کے علاوہ، انہوں نے دنیا کے مشہور شاعر عمر خیام کی رباعیات کا کشمیری زبان میں ترجمہ کیاجس کو کافی سراہا گیا۔انگریزی زبان میں اپنے ہفتہ روزہ اخباروائس آف کشمیر ’کے ذریعہ انہوں نے مختلف سماجی اور سیاسی معاملات پر اپنی رائے ظاہر کی تھی جس کو عوامی حلقوں میں سراہا گیا تھا۔انہوں نے کہاکہ غلام نبی خیال کا انتقال نہ صرف اردو ، کشمیر اور انگریزی زبانوں کے ادیبوں کے لئے بلکہ بذات خود کشمیری عوام کے لئے ایک بہت بڑا نقصان ہے ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ غلام نبی خیال کو اردو ،کشمیری اور انگریزی زبانوں کی خدمت کیلئے یاد رکھا جائے گا ۔