ویجلنس آفیسر بورڈ خواجہ معین الدین انچارج سی ای او مقرر کرنے وقف بورڈ کی حکومت کو سفارش
حیدرآباد۔20۔اکٹوبر(سیاست نیوز) تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ نے چیف ایکزیکیٹیو آفیسر جناب شاہنواز قاسم آئی پی ایس کی خدمات کو محکمہ اقلیتی بہبود کے حوالہ کرنے قرارداد منظور کرتے ہوئے ویجلنس آفیسر وقف بورڈ جناب خواجہ معین الدین کو چیف ایکزیکیٹیو آفیسرکے عہدہ کی اضافی ذمہ داری تفویض کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ صدرنشین بورڈ جناب محمد مسیح اللہ خان کی صدارت میں منعقدہ بورڈ کے اجلاس میں ایک نکاتی ایجنڈہ رکھا گیا تھا جس میں جناب شاہنواز قاسم کو سی ای او کی ذمہ داری سے ہٹانے کی قرار داد شامل تھی۔جناب شاہنواز قاسم نے بورڈ کے اجلاس میں شرکت نہیں کی لیکن انہوں نے وزیر داخلہ جناب محمد محمود علی سے رابطہ قائم کرتے ہوئے انہیں بورڈ کو اس طرح کی قرار داد منظور کرنے سے باز رکھنے کی درخواست کی لیکن وقف بورڈ کے ارکان نے سی ای او کی تبدیلی اور مستقل سی ای او کے تقرر کی قرارداد کے معاملہ میں کسی بھی طرح کی مفاہمت کے موقف میں نہیں تھے ۔دو یوم قبل منگوڑ ضمنی انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے وقف بورڈ کے اس اجلاس کوملتوی کروانے کی کوشش کی گئی تھی لیکن الیکشن کمیشن نے اس معاملہ میں کوئی مداخلت نہیں کی اور چیف ایکزیکیٹیو آفیسر کی جانب سے روانہ کردہ مکتوب کا کوئی جواب نہیں دیا اور وقف بورڈ کے سینیئر ارکان نے بتایا کہ انتخابی ضابطہ اخلاق سے وقف بورڈ کے اجلاس پر کوئی اثر نہیں ہوتا اسی لئے سابق میں ایسی کئی مثالیں ملتی ہیں جب ریاستی اسمبلی کے انتخابات کا دور چل رہا تھا تب بھی بورڈ کا اجلاس منعقد ہوا ہے اور کمیشن نے کوئی مداخلت نہیں کی ۔اسی لئے صدرنشین وقف بورڈو ارکان نے دستوری گنجائش کو دیکھتے ہوئے بورڈ کا اجلاس منعقد کیا اور سی ای او کی تبدیلی کا قطعی فیصلہ کرتے ہوئے حکومت کو نئے انچارج سی ای او کے نام کو منظوری دینے کی سفارش روانہ کردی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے وقف بورڈ کی قراداد کا جائزہ لینے کے بعد سرکاری احکامات کی اجرائی عمل میں لائے جانے کا امکان ہے۔ وقف بورڈ کے اجلاس میں مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین حسینی صابری ‘ مولانا سید نثار حسین حیدرآغا‘ محترمہ یاسمین باشاہ شیخ آئی اے ایس‘ جناب محمد فاروق حسین رکن قانون ساز کونسل ‘ جناب کوثر محی الدین رکن اسمبلی ‘ جناب ذاکر حسین جاوید موجود تھے ۔ اجلاس میں موجود تمام ارکان نے متفقہ طور پر چیف ایکزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ کو ہٹانے کی قرار داد منظور کی ۔م