سی اے اے ، این آر سی اور این پی آ ر کے خلاف قانونی طور پر بھی مضبوط لڑائی لڑنے کے لیے تیار رہیں:مولانا ولی رحمانی

   

پریس ریلیز

امارت شرعیہ میں وکلاء کی یک روزہ مجلس تبادلہ خیال میں ملک گیر تحریک کو اور زیادہ مضبوط و منظم کرنے کا عزم

مرکزی حکومت اپنے خاص ایجنڈے کے تحت ملک کےکمزوروں، پسماندہ طبقات اور اقلیتوں اور مسلمانوں کو پریشان کرنے کے لیے ایسے ایسے قوانین ایوانوں سے پاس کرا رہی ہے ، جس سے یہاں کے کمزور طبقات کو پریشان ہو کر در بدر بھٹکنے پر مجبور ہو نا پڑ سکتا ہے ۔شہریت ترمیمی قانون ، این پی آر اور این آر سی یہ تینو ں قوانین نے ملک کے اندر اضطراب کی کیفیت پیدا کر دی ہے۔قانون داں حضرات اس مسئلہ کے مختلف پہلوؤں پر غور کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں ، آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ پورے طور پر تیار رہیں ،تاکہ مستقبل کے خطرات اور اندیشوں کے پیش نظر اس وقت آپ کی قانونی مہارت سے فائدہ اٹھانے کا موقع مل سکے ۔ ان خیالات کا اظہارامیر شریعت مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب نے اپنے صدارتی خطاب میں صوبہ و بیرون صوبہ سے تشریف لانے والے ممتاز وکلاء کے ایک اجتماع سے کیا ۔ واضح ہوکہ سی اے اے ،این پی آر اور این آرسی کے متعلق بہار،جھارکھنڈو اڈیشہ کے وکلاء کی یہ یک روزہ مجلس تبادلہ خیال امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کی دعوت پر15مارچ روز اتواردن کے 10بجے المعہد العالی امارت شرعیہ پھلواری شریف ،پٹنہ میں امیر شریعت حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب کی صدارت میں منعقد ہو ئی، جس میں ایکسپرٹ کے طور پر گوہاٹی ہائی کورٹ سے ایڈووکیٹ اے ایس تاپیدار اور سپریم کورٹ آف انڈیا سے ایڈووکیٹ ایم آر شمشاد صاحب نے شرکت کی۔

حضر ت امیر شریعت نے مزیدفرمایا کہ ہم لوگوںکا ذہن ان تینوں معاملوںمیں بالکل واضح ہو ناچاہئے،2003 میں جو قانونی پیچیدگی پیدا کی گئی اورا س سے جس طرح کے مسائل پیدا ہوںگے اس کے خلاف امارت شرعیہ اور خانقاہ رحمانی نے بہت پہلے آوازاٹھائی اور اس پہلو پر پمفلیٹ شائع کر کے لوگوں میں بیداری پیدا کرنے کی کوشش کی گئی،اب آپ کو بھی اس پر نگاہ رکھنی ہے ، اور خطرات سے لوگوںکو واقف کراتے رہنا ہے، حضرت امیر شریعت نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ امارت شرعیہ ملت کو کسی حال میں تنہا نہیں چھوڑ سکتی، مناسب وقت پر مناسب ہدایت و رہنمائی ہمارا فرض ہے، ابھی آ پ اس قانون کے خلاف اپنی تحریکات کو منظم و مضبوط طریقہ پر پوری توانائی کے ساتھ جاری رکھیں،اس موقع پر حضرت امیر شریعت نے مہمانوںکا دل کی گہرائی سے استقبال بھی کیا۔سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ جناب ایم آرشمشاد صاحب نے شہریت تر میمی قانون سے متعلق مرحلہ وار ترمیم کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ تینوںقانون ملک کے دستور او ر آئین کے قطعی خلاف ہے ، مرکزی حکومت اسکو ایک سیاسی ایشو بھی بنانا چاہتی ہے ،اسلیے اس مسئلہ کو قانون کے ساتھ سیاسی اندازمیںبھی حل کرنا ہوگا۔گوہاٹی ہائی کورٹ کے سینئر ایڈووکیٹ جناب عبد الشکور صاحب تاپیدار نے آسام میں ہوئے این آر سی کے تجربات اور متعلقہ ڈاکومنٹ کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں حالات سے نہ تو مایوس ہوناچاہئے اور نہ ہی دل میں کوئی خوف اور ڈر پیدا کرنا چاہئے۔انہوں نے وہاں کے متاثرہ افراد کے لیے قانونی پیروی اور مختلف فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں سپریم کورٹ کی ہدایت اور نگرانی میں این آر سی کاکام شروع ہوا تھا ، پورے ملک میں کس نوعیت پر این آرسی ہو گا ابھی وہ خاکہ سامنے نہیں آیا ہے ، اس لیے کسی کنفیوزن کے بغیر اپنی تحریک کوجاری رکھیں ،او ر ضروری کاغذات کوتیا ر کر لیں ۔امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم مولانا محمد شبلی القاسمی صاحب نے اپنے افتتاحی کلمات میں مندوبین کرام کا خیر مقدم کیا ، اورکہا کہ آپ نے اس حساس مسئلہ پر غور و فکر کے لیے وقت کو فارغ کیا ہے ، میں اس کے لیے آپ کاشکریہ ادا کرتا ہوں، ملک جس دور سے گذررہا ہے ،اس میں آپ جیسے ملک کا درد رکھنے والے اصحاب کی ضرورت اور ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں ۔ حضرت امیر شریعت مدظلہ کی قیادت میں امار ت شرعیہ اس مسئلہ کے حل کے لیے مستقل طورپر فکر مند بھی ہے، آپ کے فکری آرا سے ہم لوگوں کوتقویت ملے گی، اسی لیے بہار ، اڈیشہ ،جھارکھنڈ و بنگال کے علاوہ سپریم کورٹ اور گوہاٹی ہائی کورٹ کے معزز وکلاء حضرات کو زحمت دی گئی ہے ، تاکہ ان کی آرا سے بھی ہم سب کواستفادہ کا موقع مل سکے۔اس موقع پر وکلائ حضرات نے ان قوانین کے تعلق سے مختلف طرح کے آئینی اور سماجی مسائل بھی دریافت کیے، جن کا ایکسپرٹ حضرات نے حل بتایااور پر امن احتجاجی دھرنوں کو مزیدمضبوط اورموثر بنانے پر زو ر دیا۔مولانا محمد سہراب ندوی نائب ناظم امارت شرعیہ نے اس مجلس کی نظامت کے فرائض انجام دیے ، مجلس کاآغاز مولانا قاری اشفاق عالم صاحب کی تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا ،مولاناشمیم اکرم رحمانی صاحب نے نعت شریف پیش اور صدر مجلس کی دعا پر مجلس کاا ختتام ہوا۔اس مجلس میں بہار ، اڈیشہ و جھارکھنڈ کے وکلاء نے شرکت کی ۔