اسراف کو روکنے راجستھان کے دو طبقات کا مثالی اقدام، غریب اور متوسط طبقات کیلئے ملک گیر سطح پر عمل آوری ضروری
حیدرآباد۔30۔ جون (سیاست نیوز) شادی بیاہ کے موقع پر اسراف کے خلاف ملک بھر میں مختلف طبقات کی جانب سے نہ صرف مہم چلائی جارہی ہے بلکہ بعض طبقات میں بیجا رسومات اور شاہ خرچی کے خلاف اہم فیصلے کئے گئے۔ ہندوستان کے بڑے شہروں میں شادی بیاہ کے موقع پر دولتمند طبقہ کی جانب سے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑہا روپئے خرچ کرنے کے واقعات منظر عام پر آئے ہیں۔ غریب اور متوسط طبقات میں لڑکیوں کی شادی ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے۔ اسراف کے خلاف حیدرآباد سے مہم کا آغاز ہوا تھا۔ ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں نے سادگی سے شادی انجام دینے کی مہم شروع کی جس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے۔ مختلف تنظیموں نے اس مہم کی تائید کی ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے بھی شادی بیاہ کے موقع پر سادگی اختیار کرنے کی اپیل کرتے ہوئے علماء اور مشائخ سے اسراف کی شادی کے بائیکاٹ کی اپیل کی تھی۔ مسلمانوں میں اسراف کو روکنے کی مہم پر بھلے ہی مکمل عمل نہیں کیا گیا لیکن راجستھان کے پالی ضلع میں دو طبقات نے شادی بیاہ کے موقع پر سادگی کیلئے باقاعدہ شرائط طئے کی ہیں۔ دونوں طبقات سے تعلق رکھنے والوں کو ان شرائط پر عمل کرنا لازمی رہے گا۔ راجستھان کے کماوت اور جاٹ طبقات سے تعلق رکھنے والے سرکردہ قائدین کا 16 جون کو اجلاس منعقد ہوا جس میں پالی ضلع کے 19 مواضعات سے تعلق رکھنے والے نمائندوں نے شرکت کی۔ دونوں طبقات نے شادی کے سلسلہ میں مختلف شرائط سے اتفاق کیا تاکہ دلہا اور دلہن کے خاندانوں پر اضافی مالی بوجھ نہ پڑے۔ فیصلہ کے مطابق شادی کے موقع پر ڈی جے ، آتشبازی اور گھوڑے پر دولہے کو سوار کرنے پر پابندی رہے گی۔ دونوں طبقات کے ذمہ داروںکا ماننا ہے کہ شادی بیاہ کے موقع پر اسراف کے نتیجہ میں کئی خاندان مالی مشکلات کا شکار ہورہے ہیں۔ سماج کے دباؤ اور تنقیدوں سے بچنے کیلئے قرض حاصل کرتے ہوئے بھاری رقومات خرچ کی جارہی ہیں۔ کماوت و جاٹ طبقات کے ذمہ داروں نے شادی کے موقع پر جویلری ، نقد رقم اور ملبوسات کے تحائف پر پابندی عائد کردی ہے۔ اس کے علاوہ روایتی طور پر افیون پیش کرنے پر روک لگادی گئی ۔ پالی ضلع کے دونوں طبقات کی جانب سے کئے گئے فیصلے کا اثر دیگر طبقات پر پڑسکتا ہے۔ شادی بیاہ کے موقع پر دلہن کے گھر والوں کو مالی بوجھ سے بچانے کیلئے راجستھان کے طبقات کا یہ فیصلہ ملک بھر کے لئے مثالی ثابت ہوگا۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر ملک بھر میں اس طرح کی شرائط پر عمل کیا گیا تو ہزاروں کروڑ روپئے کی بچت کی جاسکتی ہے جو کئی غریب خاندانوں کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔ ر