طرابلس : دو منٹ سے بھی کم وقت کی ایک ویڈیو کے ذریعہ ایک نوجوان شامی خاتون نے گزشتہ دو دنوں میں عرب مواصلاتی ویب سائٹس پر خصوصی توجہ حاصل کرلی ہے۔ خاص طور پر فیس بک پر ہزاروں شامی نوجوانوں نے خاتون کو داد دی ہے۔ خاتون کی تعریف میں اس بڑے پیمانے پر پیغامات دئیے گئے ہیں کہ ان کا جواب نہیں دیا جا سکے گا حتی کہ ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ نے خاتون کے اکاؤنٹ پر پیغام چھوڑا تو اس کا جواب بھی نہ مل سکا۔ خاتون کی ویڈیو پر سینکڑوں افراد نے مختصر تبصرے لکھے اور کہا کہ اس ویڈیو نے ان کے آنسو بہا ڈالنے ہیں کیونکہ اس ویڈیو میں جو کچھ دیکھا اس سے وہ بہت متاثر ہوئے۔ .ویڈیو میں دیکھا گیا کہ 20 کی دہائی کی عمر کی خاتون رزان یوسف سلیمان یونیورسٹی کا گریجویشن گاؤن پہنے اور پر پر کالی ٹوپی لئے ہوئے اپنے والد کا ہاتھ چوم رہی ہے۔
اس دوران ایک شخص گاڑی سے باہر نکلا اور زخمی شخص سے کچھ سامان لے کر دوبارہ گاڑی میں سوار ہوگیا اور کار چل پڑی۔ ویڈیو کو “انٹیریئر سنیپ” کے ذریعہ شائع کیا گیا تھا۔