بیروت : لبنان نے ان پانچ سکیورٹی اہلکاروں کو گرفتار کر لیا ہے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک شامی قیدی کو تشدد کر کے قتل کر دیا تھا۔ یہ گرفتاری ہفتے کے روز عمل میں آئی ہے۔ گرفتاری حکومت کے کمشنر فادی اکیکی کے حکم پر ہوئی ہے، جس نے فوجی عدالت کو ایک شامی قیدی کے تشدد سے مارے جانے کے واقعہ کو دیکھنے کے لیے کہا تھا۔نوجوان شامی قیدی لبنانی اہلکاروں کے تشدد کے نتیجے میں تین گھنٹوں کے اندر ہلاک ہو گیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ تشدد کی وجہ سے شامی قیدی کو ہارٹ اٹیک ہوا اور جب اسے ہسپتال لایا گیا تو اس کی پہلے ہی موت واقع ہو چکی تھی۔لبنان کی ریاستی سکیورٹی کے اہلکاروں نے بشر عبدالسعود نامی شامی کو 31 اگست کو گرفتار کیا تھا۔ یہ گرفتاری انٹیلی جنس ادارے کی اطلاع پرلبنان کے جنوبی علاقے بنت جبیل کے علاقے میں ہوئی تھی۔ گرفتاری کے سکیورٹی اہلکاروں کی کوشش تھی کہ اس سے داعش کا لیڈر ہونے کا اعتراف کرایا جائے۔ لیکن وہ اپنی موت تک مسلسل اس الزام سے انکاری رہا۔اس کی گرفتاری کے بعد بنائی گئی تصاویر سے صاف نظر آتا ہے کہ مرنے والے کا جسم زخموں سے بھرا ہوا ہے۔ اس کے ساتھ گرفتار ہونیوالے دوسرے افراد کے جسموں پر بھی اسی نوعیت تشدد سے جابجا زخم ہیں۔ تاہم دوسروں کی جان بچ گئی ہے۔ لبنان کی سکیورٹی ادارے پر پہلے بھی اس طرح کے پر تشدد واقعات کا الزام لگائے جاتے رہے ہیں۔