میزائل تجربات علاقائی حملہ کے مترادف ، جنوبی کوریا کے بھی جوابی تجربات، ملک میں خطرے کے سائرن
پیانگ یانگ : شمالی کوریا نے پہلی بار ایسے بیلسٹک میزائلز کا تجربہ کیا ہے جو پڑوسی ملک جنوبی کوریا کے ساحل کے قریب گرے، جنوبی کوریا نے اقدام کو ’موثر علاقائی حملہ‘ قرار دیا ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آس سٹاف کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ’بدھ کو ساحلی وانسن کے علاقے سے کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائل فائر کیے گئے۔‘دوسری جانب جنوبی کوریا کے صدر یون سوکیول کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’شمالی کوریا کی جانب سے حدود کی تقسیم کے بعد پہلی بار اشتعال انگیزی ایک علاقائی حملہ ہے۔‘جنوبی کوریا کے حکام کا کہنا ہے کہ میزائل ساحل سے 60 کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر گرے، جو دونوں ملکوں کے درمیان متنازع میری ٹائم بارڈر ہے۔میزائل جنوبی کوریا کے شہر سوکچو سے 57 کلومیٹر دور مشرقی ساحل پر گرے جبکہ یہ علاقہ الوئنگ سے 197 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔میزائل گرنے کے بعد جنوبی کوریا کے حکام نے فضائی حملے کی وارننگ جاری کی اور سائرن چلائے گئے۔الوئنگ کے حکام نے روئٹرز کو بتایا کہ ’ہم نے صبح آٹھ بج کر 55 منٹ پر سائرن سنے اور فوری طور پر محفوظ مقام پہنچے اور تب تک وہاں رہے جب تک یہ اطلاعات سامنے نہیں آ گئیں کہ میزائل سمندر میں گرا ہے۔جنوبی کوریا کی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صورت حال کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔شمالی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے فائر کیے گئے بیلسٹک میزائل جنوبی کوریا کے ساحل کے قریب گرے۔تقسیم کے بعد پہلی بار میزائل شمالی کوریا کی حدود کی لکیر کو عبور کیا ۔ جنوبی کوریا کی فوج کا کہنا ہے کہ پیانگ یانگ نے 2نومبر کی صبح مشرق اور مغرب کی جانب سے کم سے کم 10 میزائل فائر کئے ۔ بعد میں اس نے بتایا کہ شمالی کوریا کی اس کارروائی کے جوبا میں اس نے اپنی سمندری سرحد کے شمال کی طرف فضاء سے زمین پر مار کرنے والے تین میزائل داغے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہاکہ جنوبی کوریا کے صدر یون سک یول نے تازہ ترین جارحیت کا فوری طور پر جواب دینے کا حکم دیا ۔