شمس آباد ۔ 27 ۔ دسمبر : ( محمد محمود علی خان ) : شمس آباد میونسپل وارڈ نمبر 7 میں مسلم منی فنکشن ہال کا افتتاح 25 اپریل کو محمد محمود علی وزیر داخلہ کے ہاتھوں عمل میں آیا تھا ۔ افتتاح کے آٹھ ماہ کے بعد بھی فنکشن ہال جوں کا توں پڑا ہے ۔ ٹوٹے باتھ رومس کی اب تک مرمت نہیں کروائی گئی اور نہ برقی کنکشن دیا گیا ۔ صرف افتتاح کے نام پر مسلمانوں کو خوش کیا گیا ۔ آج منی فنکشن ہال کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔ افتتاحی تقریب سے قبل دروازوں اور کھڑکیوں کو کلر کروایا گیا ۔ فنکشن ہال کے فیانس کا سرقہ ہوچکا ہے ۔ باقی فیانس ناکارہ ہیں ۔ الیکٹرک وائرس کو کھلا چھوڑ دیا گیا ۔ بی آر ایس قائدین نے محمد محمود علی سے ملاقات کر کے منی فنکشن ہال کی مکمل تعمیر کیلئے پچاس لاکھ روپئے منظور کروائے لیکن صرف 15 لاکھ روپئے فنکشن ہال کیلئے استعمال کئے گئے اور باقی 35 لاکھ دیگر کاموں کیلئے استعمال میں لائے گئے ۔ میونسپلٹی سے ایک بھی روپیہ منظور نہیں کیا گیا اور نہ دیگر فنڈ سے استعمال کیا گیا ۔ روزانہ شام میں بچے کرکٹ کھیلتے نظر آتے ہیں اور رات میں چند افراد شراب نوشی اور سگریٹ نوشی کر رہے ہیں ۔ چند لوگ رات میں یہاں بسیرا بھی کررہے ہیں ۔ نہ کوئی قائد اور نہ عہدیدار اس طرف توجہ دے رہے ہیں ۔ منی فنکشن ہال کا سائن بورڈ بھی غائب ہوچکا ہے ۔ مسلم منی فنکشن ہال کے افتتاح کو جلد کرکے تقاریب کا آغاز کرنے منصوبوں پر پانی پھیر دیا گیا ۔ 15 لاکھ روپیوں کے ذریعہ صرف فرش اور واٹر ٹینک کا کام کیا گیا ۔ منی فنکشن ہال کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی اور اب تک اس کمیٹی کے نہ تو فنکشن ہال حوالہ کیا گیا اور نہ ہی عدم تکمیل کام کو مکمل کیا گیا ۔ مقامی افراد کا مطالبہ ہے کہ اس کام کو جلد مکمل کرکے کمیٹی کے حوالہ کیا جائے تاکہ تقاریب کا آغاز ہوسکے ۔۔