مہدی پٹنم تا آر ٹی اے آفس ٹولی چوکی ٹریفک جام ، ٹریفک پولیس کی چوکسی ضروری
حیدرآباد ۔ 13 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : شہر حیدرآباد بالخصوص مہدی پٹنم ، ٹولی چوکی ، ٹینک بنڈ ، لکڑی کا پل کے علاوہ دیگر علاقوں میں ٹریفک مسائل سے عوام بہت زیادہ پریشان ہیں ۔ اسکولی طلبہ اور سرکاری و خانگی ملازمین کو اسکولس اور دفاتر پہونچنے میں دشواریاں پیش آرہی ہیں ۔ کئی ایسے مقامات ہیں جہاں ٹریفک مسائل معمول بن گئی ہے ۔ مگر وہاں ٹریفک پولیس بھی دستیاب نہیں ہے ۔ مہدی پٹنم چوراہا بہت مصروف ترین علاقہ ہے ۔ جہاں بہت زیادہ ٹریفک بہاؤ ہے ۔ آئی ٹی ملازمین اسی علاقے سے گذرتے ہیں مہدی پٹنم رعیتو بازار کے پاس بہت زیادہ ٹریفک مسائل ہیں ۔ اس علاقے کے آس پاس بے ترتیب گاڑیاں پارک کی جارہی ہیں جس سے ٹریفک مسائل پیدا ہورہے ہیں ۔ ساتھ ہی سٹی بس اسٹاپ بھی ہے ۔ آر ٹی سی بسوں کو سڑک کے درمیان روکا جارہا ہے ۔ جس سے ٹریفک بہاؤ میں خلل پیدا ہورہا ہے ۔ اس علاقے میں عوام سڑک تبدیل بھی کرتے ہیں جو ٹریفک مسائل کا سبب بن رہی ہے ۔ یہاں ٹریفک سگنل بھی ہے ۔ مگر ٹریفک کنٹرول کرنے کے لیے کوئی ٹریفک پولیس سڑک پر دستیاب نہیں ہے ۔ ان تمام وجوہات کے باعث عوام کو ٹریفک مسائل سے گذرنا پڑرہا ہے ۔ ٹریفک مسائل کا یہ سلسلہ ٹولی چوکی آر ٹی اے آفس تک جاری ہے ۔ دو تا تین کلو میٹر کا راستہ طئے کرنے گاڑیاں چلانے والوں کو کافی مشکلات سے گذرنا پڑتا ہے ۔ آر ٹی اے آفس پر گاڑیوں کے رجسٹریشن ، لائسنس اور دوسرے کاموں کے لیے روزانہ سینکڑوں عوام پہونچتے ہیں ان کے لیے کوئی پارکنگ کا انتظام نہیں ہے جس سے عوام آر ٹی اے آفس جانے کے لیے بے ترتیب گاڑیاں سڑکوں پر پارک کی جارہی ہیں جو ٹریفک مسائل کا سبب بن رہی ہے ۔ اس کے علاوہ یہ علاقہ ہوٹلس زون کا بھی ہے جہاں فیملی کے علاوہ دوسرے افراد ہوٹلنگ کے لیے پہونچتے ہیں مگر سڑک کے دونوں سائیڈ ٹریفک کے بہت زیادہ مسائل ہیں اس پر بھی ٹریفک پولیس کو سخت نوٹ لینے کی ضرورت ہے ۔ اس مقام پر ٹریفک پولیس ہوتی ہے مگر وہ ٹریفک مسائل کو کنٹرول کرنے اور عوام کو راحت فراہم کرنے کے بجائے گاڑیوں کی چیکنگ کرنے اور انہیں جرمانے عائد کرنے میں مصروف ہے ۔ عوام کو پولیس کی چیکنگ پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ ٹریفک قواعد کی پابندی کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے تاہم ٹریفک پولیس اس مقام پر ٹریفک مسائل کو حل کرنے پر توجہ دیتی ہے تو جو ٹریفک مسائل پیدا ہورہے ہیں اس کا حل برآمد ہوگا اور عوام کو راحت فراہم ہوگی ۔۔ 2