30 تا 50 فیصد ایندھن کی سربراہی میں کٹوتی ، عوام پریشان ، بلیک میں فروخت
حیدرآباد ۔ 29 ۔ جون : ( سیاست نیوز) : شہر حیدرآباد کے بشمول ریاست کے بیشتر اضلاع ہیڈکوارٹرس پر پٹرول اور ڈیزل کی قلت پیدا ہوگئی ہے اور پٹرول پمپس پر نو اسٹاک کے بورڈس نظر آرہے ہیں ۔ جن پٹرول پمپس پر پٹرول اور ڈیزل دستیاب ہے وہاں پر گاڑیوں کی قطاریں دیکھی جارہی ہیں ۔ ریاست تلنگانہ میں گذشتہ 15 دن سے پٹرول اور ڈیزل کی قلت پائی جارہی ہے ۔ حکومت کی جانب سے اس پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔ جس سے عوام کو مشکلات سے دوچار ہونا پڑرہا ہے ۔ عالمی مارکٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ مرکزی حکومت نے آئیل کمپنیوں کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کی اجازت نہیں دی ہے اور ساتھ ہی ٹیکس میں کمی کرنے سے بھی انکار کرتے ہوئے سارا بوجھ آئیل کمپنیوں کو برداشت کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ جس پر آئیل کمپنیاں نقصان برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہے ۔ آئیل کمپنیاں ڈیلرس کو طلب کے مطابق ایندھن سربراہ نہیں کررہے ہیں ۔ جس سے قلت پیدا ہوگئی ہے ۔ ڈیلرس کا کہنا ہے کہ آئیل کمپنیوں نے پٹرول اور ڈیزل کی سربراہی میں 30 تا 50 فیصد کی کٹوتی کردی ہے ۔ جس سے شہر کے علاوہ مضافات اور اضلاع میں پٹرول اور ڈیزل کی قلت پیدا ہوگئی ہے ۔ تلنگانہ حکومت بالخصوص محکمہ سیول سپلائز کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس پر فوری توجہ دیں ۔ پٹرول اور ڈیزل کی عارضی قلت کو دور کرنے کیلئے ضروری اقدامات کریں ۔ آئیل کمپنیوں نے بلیک میں فروخت ہونے والے ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کردیا جس کے بعد آر ٹی سی اور دیگر کارپوریٹ ادارے آئیل کمپنیوں سے بلیک میں ڈیزل خریدنے کے بجائے ڈیلرس سے خرید رہے ہیں ۔ جس پر آئیل کمپنیوں نے پٹرول اور ڈیزل کی سربراہی میں بڑے پیمانے پر کٹوتی کردی ہے ۔ شہر کے بیشتر علاقوں میں پٹرول پمپس بند ہوگئے ہیں ۔ عوام کو پٹرول ڈیزل خریدنے کیلئے دور دراز علاقوں کا دورہ کرنا پڑرہا ہے یا انہیں بلیک میں خریدنا پڑرہا ہے جس سے غریب و متوسط طبقہ پر اضافی مالی بوجھ عائد ہورہا ہے ۔ مرکزی و ریاستی حکومتوں کی ذمہ داری ہے عوام کی مشکلات کو دور کرنے کیلئے فوری کوئی حل برآمد کریں ۔ ایندھن کی عارضی قلت پیدا کرنے والے آئیل کمپنیوں کے خلاف کارروائی کریں ۔۔ ن