جمعہ کی دوپہر تک، پولیس نے حالات کو قابو میں کر لیا اور شیواجی کی مورتی کو گاؤں سے باہر منتقل کر دیا گیا۔
حیدرآباد: ضلع ورنگل کے بولی کنٹا گاؤں میں دلت تنظیموں اور ہندو تنظیموں کے درمیان گاؤں کے مرکز میں چھترپتی شیواجی کا مجسمہ نصب کرنے کے تنازعہ کی وجہ سے حالات کشیدہ ہوگئے۔
جمعرات کی آدھی رات، 16 جولائی کو، گاؤں والوں نے گاؤں کے چوراستہ (چوراہے) پر مورتی نصب کرنے کی کوشش کی۔ تاہم، تنصیب کی مخالفت کرنے والی گاؤں میں دلت تنظیموں کے تعلق سے جاری تنازعہ کی وجہ سے، ممنور پولیس اسٹیشن کے پولیس اہلکاروں نے جمعہ 17 جولائی کی صبح ڈی سی ایم گاڑی میں مورتی کو گاؤں سے باہر منتقل کرنے کی کوشش کی۔
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ورنگل کے ضلع صدر جی روی کمار اور دیگر، جنہیں اس کی اطلاع ملی، وہ گاؤں پہنچے اور پولیس کو مجسمہ کو ہٹانے سے روکنے کی کوشش کی۔
ہندوتوا اور دلت تنظیموں کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی اور دونوں گروپوں کے لوگوں نے ایک دوسرے کو دھکا دیا۔ پولیس نے متعدد افراد کو حراست میں لے کر تھانہ ممنور پہنچا دیا۔
گاؤں میں متضاد نظریات کے حامل دو گروہوں کے درمیان تنازعہ کچھ عرصے سے چل رہا ہے۔
پہلے گاؤں کے چوراستہ پر بابا صاحب ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کا مجسمہ ہوا کرتا تھا۔ لیکن سڑک کو چوڑا کرنے کے کاموں کے دوران امبیڈکر کے مجسمے کو وہاں سے ہٹا دیا گیا۔
حالیہ دنوں میں، گاؤں کے ہندوؤں نے شیواجی کے مجسمے کو اسی جگہ نصب کرنے کے لیے بھومی پوجا کی تھی جہاں امبیڈکر کا مجسمہ ہوا کرتا تھا، جس کی گاؤں کے دلت گروہوں نے سخت مخالفت کی تھی۔
اس مقام پر شیواجی کا مجسمہ نصب کرنے کے خلاف دلت گروپوں نے ممنور پولیس اسٹیشن سے بھی رجوع کیا تھا۔
تاہم، ہندوؤں نے آگے بڑھ کر جمعرات کی رات وہاں شیواجی کا مجسمہ نصب کر دیا، جس سے کشیدگی پھیل گئی۔
جمعہ کی دوپہر تک، پولیس نے حالات کو قابو میں کر لیا اور مورتی کو گاؤں سے باہر منتقل کر دیا گیا۔