نئی دہلی، 14 اکتوبر (ایجنسیز): دہلی یونین آف جرنلسٹس (ڈی یو جے) نے 10 اور 11 اکتوبر کو دارالحکومت میں احتجاجی مظاہروں کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کی مبینہ حراست، مارپیٹ اور پیشہ ورانہ فرائض میں رکاوٹ ڈالنے کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے۔ یونین نے آزاد صحافیوں، فری لانس رپورٹرز اور ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ افراد کو بھی بلاامتیاز تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ عرضی میں الزام لگایا گیا ہے کہ پولیس نے صحافیوں کو احتجاجی مقامات سے ہٹایا، ویڈیو ریکارڈنگ سے روکا اور بعض کے موبائل فون، کیمرے اور مائیکروفون بھی لے لیے۔ سینئر صحافی پرانجوئے گوہا ٹھاکرتا کی مثال دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انہیں پریس انفارمیشن بیورو کا شناختی کارڈ دکھانے کے باوجود حراست میں لیا گیا۔ یونین نے صحافیوں کی کم از کم 35 حراستوں سے متعلق کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی رپورٹ کا بھی حوالہ دیا ہے۔ ڈی یو جے نے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کے خلاف مبینہ زیادتیوں کی آزادانہ اور مقررہ مدت میں تحقیقات کرائی جائیں، ضبط شدہ آلات واپس کیے جائیں اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ عرضی میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عوامی مقامات پر رپورٹنگ کے لیے سرکاری منظوری یا کسی ادارے کا پریس کارڈ لازمی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یونین کے مطابق آزادانہ صحافت اور اطلاعات تک عوام کی رسائی کا تحفظ آئینی تقاضہ ہے۔