صدر بننے کے بعد ٹرمپ کیخلاف پہلا مقدمہ دائر

   

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پیر کے روز صدر کا عہدہ سنبھالتے ہی ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے جس کی رو سے پیدائش کی بنیاد پر امریکی شہریت کا حصول ختم کر دیا گیا۔ تاہم چند گھنٹے بعد ہی اس فرمان کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کر دی گئی۔ملک میں مہاجرین اور شہریوں کے حقوق کا دفاع کرنے والوں نے امریکی صدر کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔ ان میں امریکن سیول لبرٹیز یونین بھی شامل ہے منگل کے روز جاری ایک بیان میں انسانی حقوق کیلئے سرگرم کارکنان نے اس فیصلے کو غیر آئینی قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ امریکہ میں پیدا ہونے والے بعض بچوں سے ان کی امریکی شہریت چھیننے کی کوشش ہے۔ٹرمپ نے صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلے روز سے ہی مختلف شعبوں میں ایگزیکٹو آرڈروں کے اجرا کا سلسلہ شروع کر دیا۔امریکی صدر نے سابق انتظامیہ کے 78 ایگزیکٹو اقدامات کو منسوخ کر دیا جن میں امیگریشن اور شہریت دینے سے متعلق فرمان شامل ہیں۔ٹرمپ نے امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سرحد پر غیر قانونی ہجرت سے متعلق نیشنل ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان بھی کیا۔ انھوں نے جرائم پیشہ ٹولیوں کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا۔ علاوہ ازیں امریکہ میں غیر قانونی تارکین وطن کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کیلئے خود کار شہریت کو منسوخ کر دیا۔ٹرمپ نے امریکہ میں پناہ گزینوں کی دوبارہ آباد کاری کے پروگرام کو کم از کم چار ماہ کیلئے معطل کر دیا، ساتھ اس بات کے سیکورٹی جائزے کا حکم دیا کہ آیا مخصوص ممالک سے آنے والے مسافروں کو سفری پابندیوں کے تحت لایا جانا چاہیے۔