درگاہ کو ہٹانے کے بھی اقدامات ، آندھرا پردیش کے وزیر فینانس بی راجندر ریڈی کی فرقہ پرستی
احتجاج پر مقامی مسلم نوجوانوں کو دھمکیاں ، چیف منسٹر جگن موہن ریڈی کا ہوش میں آنا ضروری
حیدرآباد ۔ 19 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز) : فرقہ پرست طاقتیں اب ایسا لگتا ہے کہ جنوبی ہند بالخصوص آندھرا پردیش اور تلنگانہ پر اپنی گندی نظریں گاڑھے ہوئے ہیں ۔ چنانچہ جس طرح کرناٹک میں مختلف بہانوں سے مسلمانوں کو تنگ کیا جارہا ہے ۔ درگاہوں کی ہندو مذہبی مقامات کی حیثیت سے نشاندہی کی جارہی ہے تو مساجد کو مندروں میں تبدیل کرنے کی ناپاک کوشش ہورہی ہے ۔ اسی انداز میں یہ فرقہ پرست آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں بھی اپنا شیطانی کھیل کھیلنا چاہ رہے ہیں ۔ جہاں تک آندھرا پردیش کا سوال ہے اگرچہ وہاں کے چیف منسٹر جگن موہن ریڈی ایک سیکولر امیج رکھتے ہیں لیکن ان کی کابینہ میں شامل چند ایک عناصر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فرقہ پرستی کی راہ پر گامزن ہوچکے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ فرقہ پرستوں کے بہکاؤے میں آکر وہ مسلمانوں کو جگن موہن ریڈی اور ان کی حکومت سے بدظن کرنے میں مصروف ہیں ۔ اس سلسلہ میں آندھرا پردیش کے ریاستی وزیر فینانس بی راجندر ناتھ ریڈی کا نام لیا جارہا ہے ۔ ان پر الزام ہے کہ وہ ریاستی و مرکزی ترقیاتی پراجکٹ کے نام پر اپنے حلقہ اسمبلی دھون کے رودرکشھا کونڈہ کے بلند و بالا پہاڑ پر واقع ایک مسجد اور درگاہ کو شہید کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ حلقہ اسمبلی دھون میں مسلمانوں کی اچھی خاصی آبادی ہے ۔ واضح رہے کہ رکشھا کونڈہ حیدرآباد ۔ کرنول قومی شاہراہ کے بائیں جانب واقع ہے ۔ مسٹر بی راجندر ناتھ ریڈی نے فرقہ پرستوں کی طرح موقف اختیار کرتے ہوئے مقامی مسلمانوں سے صاف صاف طور پر کہدیا ہے کہ وہ مسجد اور مزار کو کہیں اور منتقل کردیں ۔ حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ مسجد ایک مرتبہ تعمیر کی جاتی ہے تو وہ ہمیشہ مسجد ہی رہتی ہے اور مسلمان قبور کو بھی منتقل کرنے سے گریز کرتے ہیں لیکن بی راجندر ریڈی اور بلڈوزرس کے ذریعہ سارے پہاڑ کو کھود کر زمین مسطح کرنے کے عمل کو تیز کردیا ہے ۔ اب وہاں مسجد نظام یار خاں اور درگاہ حضرت عبدالسبحان چشتی باقی رہ گئی ہے ۔ واضح رہے کہ اس مسجد کی تعمیر 20 سال قبل عمل میں لائی گئی جس میں 30 تا 40 مصلی نماز ادا کرسکتے ہیں ۔ تقریبا 11 سو گز زمین دراصل حضرت عبدالسبحان چشتی نے پٹہ پر حاصل کی تھی اگرچہ وہ گورنمنٹ کنٹراکٹر تھے لیکن دنیاوی زندگی کو چھوڑ کر ریاضت میں مصروف ہوگئے اور عیش و عشرت کی زندگی ترک کر کے اللہ اللہ کرنے میں مصروف ہوگئے تھے ۔ گذشتہ سال ہی وہ اس دار فانی سے کوچ کر گئے اور کچھ دنوں میں ان کا پہلا عرس بھی ہونے والا ہے ۔ جہاں تک حضرت الشیخ خواجہ عبدالسبحان الحسینی الچشتی والبندہ نوازی ؒ کا سوال ہے ان کے کافی معتقدین بھی ہیں وہ نہیں چاہتے کہ آندھرا پردیش کے وزیر فینانس مسجد اور مزار کو ترقیاتی پراجکٹس کے نام پر شہید کروائیں ۔ اس سلسلہ میں مقامی مسلمانوں نے چیف منسٹر جگن موہن ریڈی کو ٹوئیٹس کے ذریعہ توجہ بھی دلائی اور ان کے وزیر کی نا پسندیدہ سرگرمیوں کے بارے میں واقف بھی کروایا ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ حضرت خواجہ عبدالسبحان الحسینی الچشتیؒ کے دو فرزندان مقبول باشاہ اور محمد علی تھے ۔ جن کے انتقال ہوچکے ہیں مقبول باشاہ کے دو بیٹے عمر باشاہ اور عبدالمجید باشاہ اور ایک بیٹی ہیں اور وہ مسٹر بی راجندر ناتھ ریڈی ایم ایل اے کی سرگرمیوں سے پریشان ہیں ۔ چنانچہ مقامی مسلمان اور حضرت خواجہ عبدالسبحان الحسین کے ارکان خاندان نے جگن موہن ریڈی سے اپیل کی ہے کہ وہ مسجد کو شہید ہونے سے بچانے کے لیے آگے آئیں اور اپنے وزیر فینانس و ایم ایل اے کو مذموم حرکت سے روکیں ۔ مقامی مسلمانوں نے بتایا کہ مسجد اور درگاہ 11 سو گز مربع اراضی پر محیط ہے ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ جب مقامی نوجوان اس سلسلہ میں منڈل آفس سے رجوع ہوئے انہیں گرفتار کروانے کی دھمکیاں دی گئیں ۔ بہر حال دھون ضلع نندیال کی اس مسجد اور مزار چیف منسٹر جگن موہن ریڈی اور ان کی حکومت کے لیے ایک آزمائش ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس آزمائش میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں ۔۔