طاقت کااستعمال کوئی حل نہیں

   

ظرف والے ہمارے حصہ میں آئے ہی نہیں
جو بھی آتا ہے اوقات دکھا جاتا ہے
مرکزی حکومت کی جانب سے جس طرح سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ہونے والے مظاہروں کو روکنے اور ان میں حصہ لینے والوں کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے ۔ حد تویہ ہوگئی ہے کہ پولیس کی وردی پہن کر قانون کے رکھوالے ہونے کا دکھاوا کرنے والے پولیس اہلکار خود قانون کی دھجیاں اڑا رہے ہیں ۔ سماج میںانتہائی اوچھی مثالیں قائم کر رہے ہیں اور بحیثیت مجموعی حکومت کی جانب سے مخالفانہ آوازوں کو طاقت کے بل پر کچلنے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ سارا احتجاج ملک کے نوجوان کر رہے ہیں اور حکومت کو یہ حقیقت سمجھنی چاہئے کہ ملک کے نوجوان اور طلباء برادری طاقت کے استعمال سے خوفزدہ ہونے والی نہیں ہے بلکہ انہیں جتنا دبانے کی کوشش کی جائے گی یہ اتنا ہی اچھل کر باہر آئیں گے ۔ دہلی کے جنتر منتر گذشتہ تین دن سے جاری احتجاج کے دوران صرف طاقت کے استعمال پر توجہ دی جا رہی ہے ۔ عوامی احتجاج کیلئے مختص مقام کو ہی احتجاج کیلئے بند کردیا گیا ہے ۔ تہہ در تہہ رکاوٹیں کھڑی کردی گئی ہیں اور کسی کو بھی وہاں داخلہ کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے ۔ طلباء قائدین اور سماجی جہد کار مسلسل اس جانب مارچ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور پولیس کے ساتھ ان کی مڈ بھیر بھی ہو رہی ہے ۔ دھکا مکی عام ہوگئی ہے ۔ پولیس کی جانب سے بارہا احتجاجیوں کو حراست میں لیا جا رہا ہے ۔ دور مقامات کو منتقل کیا جا رہا ہے تاہم وہاں سے رہائی کے بعد یہ احتجاجی دوبارہ جنتر منتر کا رخ کر رہے ہیں۔ پولیس اور احتجاجیوں کے مابین آنکھ مچولی کا یہ سلسلہ جاری ہے اور یہ تاثر عام ہونے لگا ہے کہ جو احتجاج گیانیش کمار کے استعفی کے مطالبہ پر شروع ہوا ہے اسے روکنا آسان نہیں ہوگا ۔ یہ احتجاج ملک کے کئی شہروں میں ہو رہا ہے تاہم سوشیل میڈیا کی توجہ جنتر منتر کے احتجاج پر مرکوز ہے اور کہا جارہا ہے کہ یہ احتجاج آئندہ دنوں میں مزید شدت اختیار کرے گا اور پھر ملک کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے افراد جنتر منتر پہونچنے شروع ہوجائیں گے ۔
جہاں تک مرکزی حکومت کا سوال ہے تو اسے صرف ایک ہی طریقہ دکھائی دے رہا ہے کہ وہ احتجاجیوں اور حکومت سے اختلاف رکھنے والوں کے خلاف طاقت کا استعمال ہی کر رہی ہے ۔ کہیں مخالفین کو مقدمات درج کرتے ہوئے جیلوں کو منتقل کیا جا رہا ہے تو کسی کو ایجنسیوں کا خوف دکھایا جا رہا ہے ۔ کسی کو بغیر ضمانت کے جیلوں میں رکھا جا رہا ہے تو کسی کو لاٹھی چارج کا پیلٹ گنس کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ حکومت کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس کا سامنا ملک کی سیاسی جماعتوں سے نہیں ہے ۔ اپوزیشن کو کسی طرح سے ملک کی حکومت نے کنٹرول کیا ہوا تھا تاہم اب ان پر بھی حکومت اپنا ڈر بٹھانے میں کامیاب نہیں ہو رہی ہے ۔ ملک کے نوجوان اور طلباء جب سڑکوں پر اتر آئے ہیں تو یہ بات حکومت کو سمجھنی چاہئے کہ یہ طلباء اور نوجوان قانون کے دائرے میںرہتے ہوئے احتجاج کر رہے ہیں۔ ان طلباء نے بتادیا کہ وہ ایک ماہ سے زیادہ عرصہ سڑک پر بیٹھے رہے تاہم انہوں نے امن کو متاثر ہونے نہیں دیا اور کوئی پرتشدد کارروائی نہیں کی ۔ اس کے باوجود پولیس کا استعمال کرتے ہوئے حکومت احتجاج کو کچلنے کی کوشش کر رہی ہے جو درست نہیںہوسکتی ۔ حکومت کو مسائل کو سمجھنے اور طلباء کی تشویش کو دور کرنا چاہئے ۔ ان سے بات چیت کی جانی چاہئے اور ان میں ملک کے جمہوری نظام اور انتخابی عمل کے تئیں اعتماد پیدا کرنے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جو نہیں کئے جا رہے ہیں۔
نوجوانوں اور طلباء کی ناراضگی اور غم و غصہ کا جہاں تک سوال ہے تو وہ اتنا زیداہ بڑھ گیا ہے کہ اب طاقت کے استعمال سے انہیںروکا نہیں جاسکتا ۔ وہ اپنے مطالبات منوانا جانتے ہیں اور اس کیلئے احتجاج ہی انہیں ایک واحد راستہ دکھائی دے رہا ہے ۔ امن برقرار رکھتے ہوئے احتجاج کرنا اس ملک کے ہر شہری کا حق ہے اوراس کو کچلنے کی کوششیں ہمیشہ کامیاب نہیں ہوسکتیں۔ حکومت کو طاقت کے زعم میں مبتلا نہیں رہنا چاہئے ۔ طاقت کے زعم میں مبتلا رہتے ہوئے نوجوانوں کو زیادہ دیر تک خاموش نہیں بٹھایا جاسکتا۔