اقوام متحدہ اس سلسلہ میں ڈی فیکٹو طالبان حکام کے ساتھ بات چیت میں مصروف
نیویارک : اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرس نے افغان طالبان پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ افغان سرزمین سے پاکستان یا کسی دوسرے پڑوسی ملک پر دہشت گرد تنظیموں کے حملوں کو روکیں۔نیو یارک میں اقوام متحدہ کی پریس بریفنگ کے دوران انٹونیو گوٹیرس نے عالمی برادری سے مطالبہ ہے کہ وہ افغانستان سے دہشت گرد تنظیموں کی ہر قسم کی سرگرمیوں کو روکے جو کہ افغانستان سے پاکستان سمیت پڑوسی ممالک کے لیے خطرہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اس سلسلے میں ڈی فیکٹو طالبان حکام کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے نمائندہ نے پاکستان کے خلاف تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے سرحد پار سے بڑھتے ہوئے دہشت گردانہ حملوں کے بارے میں سوال کیا جس پر اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ طالبان کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ وہ پاکستان سمیت کسی دوسرے پڑوسی ملک کے خلاف کسی بھی قسم کی دہشت گردانہ سرگرمی کی اجازت نہ دے۔اس سلسلے میں انہوں نے خیبرپختونخواہ کے ضلع لکی مروت پولیس اسٹیشن میں دہشت گردوں کے حملے کا خصوصی طور پر ذکر کیا، اس حملے میں 4 پولیس اہلکار جاں بحق اور کئی زخمی ہوگئے تھے۔حملے کے کچھ گھنٹوں بعد بنوں میں محکمہ انسداد دہشت گردی کی عمارت میں زیر حراست دہشت گردوں نے عمارت کو قبضے میں لیکر اہلکاروں کو یرغمال بنایا اور پہلے افغانستان اور بعد میں شمالی وزیرستان یا جنوبی وزیرستان باحفاظت منتقلی کا مطالبہ کیا تھا۔کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے واقعے کی ذمہ داری قبول کرلی تھی۔اطلاعات کے مطابق آج صبح سے بنوں میں صورتحال کشیدہ ہے۔اس سے قبل نومبر میں حکومت اور ٹی ٹی پی کے درمیان جنگ بندی معاہدہ کے خاتمے کے بعد ملک میں بالخصوص خیبرپختونخواہ میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہواہے۔انٹونیو گوٹیرس نے بریفنگ کے دوران دہشت گردی میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا، انہوں نے کہا کہ کئی واضح چیزیں ہیں جو طالبان کو بین الاقوامی برادری اور خود افغانستان کے مفاد میں کرنا ہوں گی۔ سکریٹری جنرل نے اس بات پر زور دیاکہ افغانستان کے اقتدار میں تمام نسلی گروہوں کی نمائندگی ہونی چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ دوسرا پہلو انسانی حقوق اور خاص طور پر لڑکیوں کے اسکول جانے کے حقوق سے متعلق ہے، تمام بچیوں کو بلاامتیاز ہر سطح پر اسکول جانا چاہیئے۔انٹونیو گوٹیرس نے بریفنگ کے دوران کہا کہ اقوام متحدہ 9 جنوری کو جینوا میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں پاکستان میں سیلاب کے بعد تعمیر نو کے لیے تعاون کو بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حمایت کے لیے عالمی برادری کو متحرک کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔انٹونیو گوٹیرس نے سیلاب کے بعد پاکستان کے دورہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’میں نے جو کچھ دیکھا اس نے مجھے بہت زیادہ متاثر کیا، میرے اپنے ملک کا تین گنا رقبے سے زیادہ پاکستان سیلاب کی زد میں آیا، سندھ اور بلوچستان میں تباہ کن صورتحال دیکھی، انسانی زندگی سمیت فصلوں اور جانوروں اور گھروں کو شدید نقصان پہنچا۔‘انہوں نے کہا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کی مدد کرے جس نے موسمیاتی تبدیلی میں بہت کم کردار ادا کیا ہے۔انٹونیو گوٹیرس نے زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ 9 جنوری کو جینوا میں ہونے والی کانفرنس کے سلسلے میں پاکستان کی حمایت کرے’۔