کابل : افغانستان اور شام کی سرحدیں نہیں ملتی بلکہ ان دونوں ممالک کے درمیان ہزاروں کلو میٹرز کا فاصلہ ہے تاہم اس کے باوجود افغان طالبان میں شام کے مسلح گروہ کیلئے حمایت پائی جاتی ہے ۔ طالبان حکومت کی جانب سے شام کی صورتحال کو لیکر سرکاری سطح پر تاحال کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا لیکن سوشل میڈیا پر جو دکھائی دے رہا ہے وہ کم حیران کن نہیں ہے ۔ طلبان سنی نظریات رکھتے ہیں ، ایک طالب نے مجھے بتایا کہ طالبان میں شام کے مسلح گروہ کیلئے پائی جانے والی حمایت کی ایک وجہ یہ ہے کہ دونوں ایک جیسے نظریات رکھتے ہیں ۔ سینئر طالبان حکام کو امید ہے کہ مسلح گروہ شام میں شریعہ قوانین نافذ کریں گے جیسے طالبان نیافغانستان میںکیا ہے ۔
دہشت گرد گروپوں’ کے خلاف کارروائیاں : شامی فوج
دمشق: شامی فوج نے اتوار کو علی الصبح کہا ہے کہ اس کی افواج حماۃ، حمص اور درعا کے دیہی علاقوں میں “دہشت گرد گروہوں” کے خلاف فوجی کارروائیوں کو آگے بڑھا رہی تھیں۔ ان علاقوں میں حالیہ دنوں میں جھڑپوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔مسلح باغیوں کی جانب سے ٹیلی ویژن پر دمشق کو آزاد کروانے اور صدر بشار الاسد کی حکومت کو معزول کرنے کے اعلان کے بعد یہ بیان سامنے آیا ہے ۔