طالبان سے حکومت ہند کے مذاکرات کا آغاز

   

افغانستان میں بحالی امن اولین ترجیح ، وزارت خارجہ کے ترجمان اے باگچی کا بیان
حیدرآباد۔13اگسٹ(سیاست نیوز) حکومت ہند افغانستان کی تازہ صورتحال اور سیکیوریٹی امور پر طالبان سے مذاکرات کا آغاز کرچکی ہے۔ مرکزی وزارت خارجہ کی جانب سے دیئے جانے والے اشاروں کے مطابق مرکزی حکومت نے افغانستان میں ان تمام گروہوں اور جماعتوں سے بات چیت کررہی ہے جو کہ خطہ میں اثر رکھتے ہیں ۔ حکومت ہندکی جانب سے دوحہ قطر میں جاری مذاکرات کے دوران جن شراکت داروں سے بات چیت کی جا رہی ہے اسے دیکھتے ہوئے یہ کہا جا رہاہے کہ اب جبکہ افغانستان میں اشرف غنی حکومت کی جانب سے طالبان کو حکومت میں شراکت کی دعوت اور پیشکش کی جاچکی ہے حکومت ہند کی جانب سے طالبان سے بات چیت کی جا رہی ہے۔محکمہ وزارت خارجہ حکومت ہند کے ترجمان ارندم باگچی نے اس بات کی توثیق کی ہے کہ حکومت ہند کی جانب سے ان تمام گوشوں سے بات چیت کو یقینی بنایا جارہا ہے جو کہ افغانستان میں اثر رکھتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس سلسلہ میں مزید کچھ بھی کہنے سے قاصر ہیں کیونکہ انہیں اس مسئلہ پر کوئی اور وضاحت نہیں کرنی ہے ۔ حکومت ہند کی ترجیحات کے سلسلہ میں بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت ہندکی اولین ترجیح خطہ میں امن کی بحالی ہے اور امن کی بحالی کے لئے حکومت کی جانب سے تمام امور کا جائزہ لیا جا رہاہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ہندستان کا مقصد افغانستان میں موجود اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے اور وہ اس با ت کی کوشش کر رہا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ افغانستان میں موجو د اقلیتوں بالخصوص ہندو اور سکھ برادری سے ہندستانی وزارت خارجہ مسلسل رابطہ میں ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ دوحہ قطر میں جاری علاقائی امور کی بات چیت میں ہندستان کو مطلق بن ماجد التہانی نے مدعو کیا ہے جو کہ دہشت گردی کے خاتمہ اور تنازعات کی یکسوئی کے لئے خصوصی سفیر ہیں۔حکومت ہند کی وزارت خارجہ کی جانب سے ایک ایسے وقت اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ ہندستان افغانستان میں تمام شراکت داروں سے بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے جب کہ طالبان افغانستان دارالحکومت کابل سے محض 150 کیلو میٹر دور ہیں اور افغانستان کے بیشتر حصہ پر طالبان کا قبضہ ہوچکا ہے۔ ارندم باگچی نے واضح کیا کہ ہندستانی قونصل خانہ افغانستان میں برسرخدمت ہے لیکن مقامی عہدیداروں اور ملازمین کے ذریعہ قونصل خانہ کی سرگرمیاں انجام دی جا رہی ہیں اسی لئے یہ کہنا درست نہیں ہے کہ افغانستان سے ہندستان کا تخلیہ ہوچکا ہے۔